35

کرونا کی نئی قسم کس پالتو جانور سے انسانوں میں منتقل ہوئی؟ ماہرین کا بڑا خدشہ

الشامی نیوزنیوز آن لائن نیوز

نیویارک: کرونا وائرس کی انسانوں میں منتقلی کے حوالے سے تحقیق کرنے والے عالمی طبی و تحقیقی ماہرین نے ایک نئے خدشے کا اظہا رکردیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق  ڈیوک یونیورسٹی کے عالمی ادارۂ برائے صحت اور وبائیات کے سینئر ڈاکٹر گریگری نے کرونا کی نئی قسم جانور سے انسانوں میں منتقل ہونے کے شبے کا اظہار کیا۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کرونا کی نئی یا تغیر شدہ قسم کتوں سے انسانوں میں منتقل ہوئی۔ ڈاکٹر گریگری نے یہ بھی کہا کہ آوارہ اور پالتو دونوں ہی کتوں میں اس قسم کے وائرس کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

ڈاکٹر گریگری نے کہا کہ کتوں میں‌ پائے جانے والے کرونا وائرسز عموماً انسانوں میں منتقل نہیں ہوتے اور نہ ہی اب تک ایسا کوئی کیس سامنے آیا ہے، لیکن ان کیسز پر مزید کام کیا اور ان کے جینوم ڈی کوڈ کیے گیے تاکہ صورت حال کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں : انسان کی دماغی صحت پر کرونا وائرس کے اثرات کیا ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: کرونا ویکسین کی فروخت سے کتنے افراد نئے ارب پتی بنے؟

ڈاکٹر گریگری نے بتایا کہ وائرس کی جینیاتی ترتیب نے ایک موقع پر کتوں کو متاثر کیا، حیران کن طور پر یہ وائرس براہ راست کتوں سے انسانوں میں منتقل ہوا کیونکہ جینوم کا بیشتر حصہ کتوں کے کرونا وائرس پر مشتمل تھا۔

یاد رہے کہ دو برس قبل دسمبر کے آخر میں جب کرونا کے کیسز سامنے آنا شروع ہوئے تھے تو  ڈیوک یونیورسٹی کے گلوبل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ میں وبائیات کے ماہر ڈاکٹر گریگری گرے نے مزید قسم کے کرونا وائرس کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے پاس وائرسز کا معلوم کرنے کے ذرائع نہیں ہیں، یہ لوگوں کو بیمار کررہے ہیں، جس سے ایک اور وبا کے پھوٹنے کا خطرہ ہے‘۔ ڈاکٹر گریگری نے کہا تھا کہ وائرس انسان کی خاموش بیماری کا سبب بن رہے ہیں، جو یک دم اثر دکھاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں