27

سوشل میڈیا کے حوالے سے قانون بنانے کی ضرورت ہے، فواد چوہدری

اسلام آباد: (الشامی نیوز )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے جعلی ، بے بنیاد خبروں اور سوشل میڈیا کے حوالے سے قوانین بنانے کی حمایت کی ہے۔

میڈیا کےساتھ گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’جعلی اور جھوٹی خبروں کی روک تھام کے لیے قانون میں اصلاحات کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے مگر موجودہ صورت حال میں سوشل میڈیا سے متعلق قانون بنانے کی ضرورت ہے جبکہ میڈیاسےمتعلق قانون میں اصلاحات ضروری ہیں جس پر سب سےمشاورت کی جائے گی‘۔

فواد چوہدری نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ڈی ایم جلسوں میں فوج کو کہا گیا حکومت کو گرادیں جبکہ حکومت تو خودگرینڈ ڈائیلاگ کی بات کررہی ہے، مولانا فضل الرحمان نےحکومت گرانےکی بھرپورکوشش کی مگر وہ ناکام رہے کیونکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں خود اختلافات کاشکار ہوگئی ہیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’حکومت  اپوزیشن کو مسائل پر بات چیت کے لیے دعوت دے رہی ہے،الیکٹورل ریفارمز، عدالتی اصلاحات سمیت ہر چیز پر بات کیلئے تیار ہیں مگر یہ واضح ہے کہ کرپشن کیسز پر اپوزیشن سے کوئی بات نہیں ہوگی‘۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف سمیت دونوں پارٹیزکو فوکل پرسن مقررکرنےکیلئے خط بھیجا، جس میں سے پی پی نے تو اپنا فوکل پرسن منتخب کردیا مگر مسلم لیگ ن نے کوئی جواب نہیں دیا، ہم نے تو پیش کش کی ہے کہ آپ تجاویز دیں پھر پارلیمانی پارٹیز کی سطح پربات کرتے ہیں،  اپوزیشن کی جانب سے ہمارےمثبت پیغام کا جواب نہیں دیا جا رہا‘۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم نےخود انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اپوزیشن سے بات چیت کرنے کا اعلان کیا تھا اور ساتھ واضح بھی کیا تھا کہ کرپشن کے مقدمات پر بات نہیں ہوگی، ذاتی طور پر سمجھتا ہوں اپوزیشن کے ساتھ آگے بڑھنا ضروری ہے، حزبِ اختلاف کے پاس موقع ہے کہ وہ ضد چھوڑ کر معاملات پر آگے بڑھے کیونکہ بڑی اصلاحات میں اپوزیشن کا کردار بھی ہونا چاہیے‘۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ’ن لیگ کے ساتھ بات چیت میں رکاوٹ ن لیگ میں لڑائی ہے کیونکہ وہاں قیادت کا تنازع چل رہا ہے، شہبازشریف پارلیمانی معاملات چلانا چاہتے ہیں مگر مریم نواز اس کی مخالف ہیں، اگر ن لیگ پارلیمان کا ماحول بنانےاور بات چیت کی طرف آئے تو خوشی ہوگی‘۔

فوادہ چوہدری کا کہنا تھا کہ ’الیکٹورل ریفارمز سے متعلق اپوزیشن اور حکومت کا 40 نکات پر اتفاق ہوچکا ہے جبکہ 9 نکات ایسے ہیں جن پر بات چیت ہوئی، شہبازشریف کل اپنا فوکل پرسن مقررکردیں بات چیت ہوجائےگی، میں ذاتی طور پر مسلم لیگ ن سے بات چیت کا حامی ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی بھی آزادکشمیر میں الیکشن چاہتی ہے، این سی او سی کے انتخابات ملتوی کرنے کی تحریک انصاف نے بھی مخالفت کی اور مؤقف اپنایا کہ اس سے متعلق فیصلہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر ہی کرے تو بہتر ہوگا، ’آزاد کشمیر میں تمام پارٹیاں الیکشن چاہتی ہیں، اس لیے ہم نے بھی مخالفت نہیں کی‘۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان نےکسی کیس میں مداخلت نہیں کی، فیک نیوزکے خلاف بھی اصلاحات کی ضرورت ہے جبکہ سوشل میڈیا سے متعلق بھی قانون بنانےکی ضرورت ہے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں