52

زیادتی کے مقدمات کی سماعت کن عدالتوں میں ہوگی؟ فیصلہ ہوگیا

اسلام آباد: (الشامی نیوز) ریپ مقدمات کو جلد انجام تک پہنچانے کی کوششوں میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، صدر مملکت عارف علوی نے اس سلسلے میں آرڈیننس جاری کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سیشن عدالتوں کو ریپ مقدمات کی خصوصی عدالتوں کا درجہ دے دیا گیا ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے سیشن عدالتوں کو خصوصی عدالتوں کا درجہ انسداد ریپ آرڈیننس کےتحت دیاگیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں ریپ کے واقعات کی روک تھام اور اس سے متعلق کیسز کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اینٹی ریپ (انویسٹگیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس 2020 کی باضابطہ منظوری دے دی۔اس آرڈیننس کے ابتدائی مسودے میں ریپ کے مجرمان کو نامرد بنانے سے قبل ان کی رضامندی حاصل کرنے کی شرط شامل کی گئی تھی جسے حتمی مسودے میں ختم کردیا گیا۔

یاد رہے کہ ملک میں ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیے وفاقی کابینہ نے گذشتہ سال 25 نومبر کو دو انسداد ریپ آرڈیننسز کی اصولی منظوری دی تھی۔

آرڈیننس کے اہم نکات

آرڈیننس کے مطابق ریپ کے ملزمان کے خلاف مقدمات کی تیزی سے سماعت اور انہیں جلد از جلد نمٹانے کے لیے ملک بھر میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو چار ماہ میں اس نوعیت کے مقدمات کو نمٹائیں گی۔

اس آرڈیننس میں ریپ کے مجرم کو نامرد بنانے سے قبل اس کی رضامندی حاصل کرنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔

وزیراعظم اینٹی ریپ کرائسس سیل قائم کریں گے جو وقوعہ کے بعد چھ گھنٹے کے اندر اندر میڈیکو لیگل معائنہ کرانے کا مجاز ہوگا۔

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی مدد سے قومی سطح پر جنسی زیادتی کے مجرمان کا رجسٹر تیار کیا جائے گا۔

آرڈیننس میں جنسی زیادتی کے متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ اسے قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا۔

آرڈیننس کے تحت تحقیقات میں کوتاہی برتنے پر پولیس و سرکاری ملازم کو 3 سال قید کی سزا اور جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے والے پولیس اور سرکاری ملازم کو بھی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نوٹیفائیڈ بورڈ کے ذریعے مجرم کو کیمیکل یا ادویات کے ذریعے نامرد بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں