32

رنگ روڈ اسکینڈل کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی

ابتدائی رپورٹ میں کابینہ کے کسی رکن کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں اورکسی حکومتی عہدیدار کو بھی قصور وار نہیں ٹہرایا گیا۔(فوٹو:فائل)

 اسلام آباد: رنگ روڈ اسکینڈل کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی، ‏رپورٹ میں رنگ روڈ کی الا ئنمنٹ کی تبدیلی اور غیر قانونی پر دیا جانا ثابت ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ‏اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی 6 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 21 ہزار صفحات کی چھان بین کی، جس کے بعد تحقیقاتی رپورٹ کو ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس نے وزیراعظم عمران خان کو پیش کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں ‏ایک سو کےقریب افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جب کہ رپورٹ ‏میں رنگ روڈ کی الائنمنٹ کی تبدیلی اور غیر قانونی ایوارڈ ہونا بھی ثابت ہوا،  الائنمنٹ تبدیل کرنے کی منظوری صوبائی ڈیولپمنٹ بورڈ سے نہیں لی گئی۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کابینہ کے کسی رکن کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں ہے جب کہ اس اسکینڈل کی ابتدائی رپورٹ میں سیاسی شخصیات کو بھی کلیئر کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رنگ روڈ منصوبے سے متعلقہ ہاؤسنگ سوسائیٹیز کی تحقیقات نیب کرے گا، جب کہ ‏اینٹی کرپشن پنجاب نے پراجیکٹ کے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ‏رنگ روڈ منصوبے میں وزیر اعظم کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی اور پراجیکٹ ڈائریکٹر کا وزیراعلیٰ پنجاب سے ہدایات لینے کا دعوی بھی غلط ثابت ہوا، ‏پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر نے ہاوَسنگ سوسائیٹیز کو فائدہ پہنچانے کے لیے 5 نئے انٹر چینج تجویز کیے۔ جب کہ الائمنٹ تبدیل ہونے سے منصوبے کی لاگت میں 10 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، سابق ڈپٹی کمشنر اٹک، اسسٹنٹ کمشنر صدر اوراسسٹنٹ کمشنر فتح جھنگ کے کردار کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں