424

سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں داسو منصوبے کیلئے اسکیم کی منظوری مؤخر

اسلام آباد: سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 132 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری کو تقریبا 46 فیصد لاگت بڑھنے پر مؤخر کردیا تاہم 126 ارب روپے کے 4 دیگر ترقیاتی اسکیمز کی منظوری دے دی۔

الشامی نیوز رپورٹ کے مطابق سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس کی صدارت پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین محمد جہانزیب خان نے کی۔

اس اجلاس میں 20 کروڑ ڈالر کی عالمی بینک کی مالی امداد سے چلنے والے ‘پاکستان گوز گلوبل’ منصوبے کی منظوری کو بھی مؤخر کردیا گیا اور حکام سے تکنیکی اعتراضات دور کرنے کے لیے کہا

حکام نے بتایا کہ 2 ہزار 160 میگاواٹ کے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (فیز 1) سے بجلی کی پیداوار سی ڈی ڈبلیو پی سے منظور نہیں ہو سکی ہے کیونکہ گزشتہ سال جولائی میں منظور شدہ لاگت 91 ارب روپے کے تخمینے سے 132 ارب 30 کروڑ روپے ہوگئی تھی، قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں 49 فیصد کمی بتائی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ زرمبادلہ کے حصص کی قیمت گزشتہ سال جولائی میں منظور شدہ 79 ارب 58 کروڑ روپے سے بڑھ کر 112 ارب 28 کروڑ روپے ہوگئی ہے۔

پاور ڈویژن سے 18 اگست کو سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس سے پہلے منصوبے کی منظوری کے لیے متعدد ضروری امور کو حل کرنے کے لیے کہا گیا تھا تاہم ان خامیوں کو دور نہیں کیا گیا لہذا اس منصوبے کو منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل (ایکنک) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے پاس نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اگلے اجلاس میں اس معاملے کو دوبارہ جائزہ لینے کے لیے پیش کیا جائے گا۔

سی ڈی ڈبلیو پی نے دو منصوبوں کی منظوری دی جن کی مجموعی لاگت 9 ارب 40 کروڑ روپے ہے اور ورلڈ بینک کے زیر انتظام دو دیگر منصوبوں کی منظوری کے لیے بھی ایکنیک کو 116 ارب 40 کروڑ روپے کی سفارش کی گئی۔

نظرثانی شدہ مالیاتی قوانین کے تحت سی ڈی ڈبلیو پی کو خود اختیار ہے کہ وہ دس ارب روپے سے کم لاگت کے منصوبوں کی منظوری دے سکتا ہے جبکہ زیادہ تخمینے والے منصوبوں کی سی ڈی ڈبلیو پی کے تکنیکی بنیادوں پر منظوری کے بعد ایکنیک کے ذریعے منظوری دی جاتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں