60

اوریجنل سلیکٹڈ ن لیگ دھاندلی کا الزام نہ لگائے، ثبوت دے، بلاول

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے پاکستان مسلم لیگ نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے ن لیگ کے دوستوں کو ہار ماننا سیکھنا ہو گا۔ این اے 249 کراچی میں ڈسکہ کا شور سن رہا ہوں، بتائیں کہاں فائرنگ ہوئی، ن لیگ دھاندلی کا الزام نہ لگائے، ثبوت دے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول کہ  بلاول بھٹو نے کہا کہ کل الیکشن میں ملیر سے ناانصافی کی شکایات آرہی تھیں۔ کوئی یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ پیپلز پارٹی نے دھاندلی کی۔ کل این اے 249 میں بہت سناکہ ڈسکہ ٹو،ڈسکہ ٹو۔ ن لیگ کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے۔ شاہدخاقان ،محمد زبیر اور مفتاح اسماعیل آراودفترمیں موجود تھے۔ شاہد خاقان ،محمد زبیر اور مفتاح اسماعیل اپنی ہار دیکھ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ الزام سے ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ پیپلز پارٹی نے دھاندلی کی۔ کون سی جماعت اوریجنل سلیکٹڈ ہے، سب کو پتا ہے، وہ ہمیں اب لیکچردے گی۔ سب جانتے ہیں کہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ دھاندلی کس جماعت نے کی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جس حلقے میں شہباز شریف نے الیکشن لڑا وہاں 35 ہزار ووٹ کیسے کم ہوا؟ مسلم لیگ ن کے دوستوں کو شکست تسلیم کرنا سیکھنا چاہیے۔
انہوں نے ہار کو تسلیم کرنے کے بجائے دھاندلی کا الزام لگایا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو پتہ چل جائے گا کہ کس جماعت نے سب سے زیادہ دھاندلی کی۔

انہوں نے کہا کہ  یہ بہت اچھا موقع تھا کہ ہم سب کو ایک ہی بیان دینا چاہیے تھا۔ ن لیگ کا شوق ہے کہ اپوزیشن سے اپوزیشن کی جائے۔ یہ پی ٹی آئی سے مقابلہ کرنے کے بجائے پیپلزپارٹی سے مقابلہ کررہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو کرو، آپ ہارجاوَ گے۔

انہوں نے کہا کہ دھاندلی کے الزامات لگانے والے ثبوت سامنے لائیں۔ اگر ن لیگ کامیاب ہوتی تو میں خود شہباز شریف کو فون کرکے مبارک باد دیتا۔ مسلم لیگ ن والے انتہائی غیر سنجیدہ ہیں جس کا ان کو زیادہ نقصان ہوگا۔ پیپلزپارٹی نے ایک تیر سے کئی شکار کیے۔ ہم نے مولوی ، بلے اور شیر کا شکار بھی کیا۔ یہ بڑے فخر سے کہتے تھے کہ ہم نے پنجاب سے پیپلز پارٹی کا صفایہ کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اسٹیبشلمنٹ، پہلے سلیکٹڈ اور دوسرے سلیکٹڈ سب کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔  سلیکٹڈ حکومت کو کراچی کے عوام نے مسترد کردیا ہے۔ کراچی کے عوام نے پیپلزپارٹی کو تاریخی کامیابی دلائی۔ کراچی کے شہریوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ پیپلز پارٹی کی تاریخی کامیابی نے ثابت کردیا کہ عوام پی ٹی آئی کی حکومت کے ساتھ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا اب امتحان شروع ہوگیا ہے۔ کراچی کےعوام نےتاریخی کامیابی دلائی۔ عوام نے پھر سے پی ٹی آئی کو عبرتناک شکست دی ہے۔ مشکل وقت میں عوام کے ساتھ رہنے والوں کی جیت ہوتی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ملیر اور بلدیہ کےالیکشن میں ثابت ہواعوام پیپلز پارٹی کیساتھ ہے۔ کارکنوں کی محنت سے پیپلز پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ ہم محدود وسائل کے باوجود کراچی کے عوام کے مسائل حل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے ضمنی الیکشن میں تاریخی کامیابی دلائی۔ پیپلز پارٹی نے کئی دفعہ اس نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم سے یہ کامیابی چھینی گئی تھی۔ ہم جانتے تھے اس علاقے میں بھٹو اور بی بی کے چاہنے والے بستے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان کی سیاست جمہوری قوتوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔ صاف اور شفاف الیکشن ہوں گے تو پیپلزپارٹی کامیاب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کارروائی کی مذمت کی تھی۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو باعزت بری کردیا۔ معزز جج کی کردار کشی کرنیوالوں کےخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیر قانون کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ عمران خان اور وفاقی کابینہ اس جرم میں شریک ہیں۔ جعلی ریفرنس بھیجنے پر صدرمملکت عارف علوی مستعفی ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم سیاسی انتقام کا بھی شکار ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم کی بنیاد اس لیے رکھی تھی کہ جمہوریت بحال ہو۔ پیپلزپارٹی نے سیاسی طور پر راستہ دکھایا کہ حکومت کو گھربھیجنا ہے تو سیاسی روڈ میپ رکھنا ہوگا۔ عدم اعتماد کامیاب ہوسکتا ہے۔ ہمارے اتحاد میں ایسے بھی لوگ ہیں جو عمران خان اور عثمان بزدار کو نہیں ہٹانا چاہتے تو میں کیا کروں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بشیر میمن نے جو الزامات لگائے ہیں ان اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم بشیر میمن کے کردار کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بشیر میمن نے اصغر خان کیس کی تحقیقات کے بجائے میرے ناشتے اور لانڈری کے بل ڈھونڈے۔ بشیر میمن کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں