29

پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے کسی نے زور نہیں لگایا اور ایکسپورٹ نہ بڑھنے اور ڈالرکی کمی کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا تھا ، عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ کسی نے ایکسپورٹ میں اضافے پر زور ہی نہیں دیا۔ گروتھ ریٹ بڑھنے سے کرنٹ اکاوَنٹ پر پریشر بڑھتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 سال میں ملک کے حکمران 20 دفعہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس جا چکے ہیں۔ اوورسیز پاکستانی ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے کسی نے زور نہیں لگایا اور ایکسپورٹ نہ بڑھنے اور ڈالرکی کمی کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہوں گا کہ آپ شوکت ترین کی خدمات حاصل کریں کیونکہ شوکت ترین کو مارکیٹنگ میں بڑا تجربہ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بینک کو چھوٹے لوگوں کو قرض دینے کے لیے اپنے اسٹاف کی تربیت کرنا ہوگی۔ جب کرنٹ خسارے میں جاتا ہے تو روپے پر پریشر آتا ہے اور پاکستان کا بڑا مسئلہ برآمدات کے شعبے کو نظر انداز کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ریکارڈ ترسیلات زر آئی ہیں اور تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ جب تک ایکسپورٹ نہیں بڑھتی تو ترسیلات زر سے ہمیں یہ خلا پورا کرنا ہو گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ روپے کی قیمت میں استحکام نہیں ہوتا تو سرمایہ کاری پر اثر پڑتا ہے اور مجھے پتہ چلا کہ سعودی سفارتخانے نے وہاں پر ہمارے لیبر کا خیال نہیں رکھا۔ اس معاملے پر تحقیقات ہور ہی ہے، ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں