77

بجٹ برائے 2021-22 بنانے کا عمل شروع

اسلام آباد (الشامی نیوز) 2021-22 کے بجٹ بنانے کا عمل شروع ہوچکا ہے جیسا کہ وزارت خزانہ نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے 800 ارب روپے مختص کرنے کے لئے وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ انڈیکیٹو بجٹ سیلنگ (IBC) شیئر کیا ہے۔

فنانس ڈویژن کی جانب سے وزارت منصوبہ بندی کو بھیجی گئی سرکاری مواصلات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کی زیرقیادت حکومت کے دوران وفاقی اور صوبائی دنوں سطح پر ترقیاتی فنڈز کا استعمال نہایت ناکافی رہا۔ منصوبہ بندی کمیشن نے گزرنے والے مالی سال کی چوتھی سہ ماہی (اپریل تا جون) کی مدت کے لئے مکمل فنڈز جاری کئے تھے لیکن استعمال ابھی تک رفتار حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ عید الفطر کے بعد ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں کس طرح تیزی لائی جائے گی۔ 650 ارب روپے کے کل مختص فنڈز اور پوری رقم کی ریلیز سے استعمال کی رفتار غیرمعمولی طور پر سست رہی ہے ور اب تک فنڈز کا استعمال 370 ارب روپے رہا۔

تاہم وفاقی کابینہ سے منظور شدہ بجٹ اسٹریٹیجی پیپر (بی ایس پی) نے کہا ہے کہ ترقیاتی فنڈز وزارت منصوبہ بندی، ترقیات اور خصوصی اقدامات کے ذریعہ ترجیحی شعبوں میں مختص کیے جائیں گے جن میں انفرا اسٹرکچر ، سوشل، سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پیداوار شامل ہیں۔

انفرا اسٹرکچر ایلوکیشن خصوصاً ٹرانسپورٹیشن اور کمیونیکیشن میں ایلوکیشن پر سبقت رکھتا ہے جن میں ریلویز، نیشنل ہائی ویز اور پورٹس شامل ہیں۔ قومی واٹر پالیسی 2018 میں عزم کے مطابق پی ایس ڈی پی کے سائز کا کم سے کم 10 فیصد آئندہ مالی سال کے دوران آبی وسائل کے اضافے اور تحفظ کے لئے واٹر سیکٹر منصوبوں کو مختص کیا جائے گا۔

دیگر میں دیامر بھاشا ، مہمند اور نئی گاج ڈیم جیسے بڑے ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دی جائے گی۔ اسی طرح پن بجلی منصوبوں کی تعمیر کے ساتھ ٹرانسمیشن لائنوں کو اپ گریڈ کرکے بجلی کے اخراج کے لئے بھی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ خصوصی علاقوں میں وفاقی حکومت کی اعلیٰ ترجیح ہے۔

خصوصی علاقوں کو ترقی دینے اور انہیں ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لا نے کیلئے نئے منصوبوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی جائے گی اور جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے مطلوبہ فنڈز مہیا کیے جائیں گے۔

پائیدار ترقیاتی اہداف کے مطابق درمیانی مدت میں اعلیٰ تعلیم، صحت اور ماحولیاتی تحفظ ترجیحی شعبے رہیں گے۔ جاری منصوبوں کی تکمیل ترجیح ہوگی۔ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز کو ایک بجٹ والے منصوبے سے دوسرے فنڈ میں دوبارہ مناسب فنڈز دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

انفرا اسٹرکچر بنانے کے لئے اہم سیکٹرز کو مختص کرنا حکومت کی توجہ کا مرکز رہے گا۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں خصوصی اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اہم اقدامات میں احساس، کامیاب جوان، صحت کارڈ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کیلئے قرض، مستحق طلباء کے لئے اسکالر شپس، سیاحت کا فروغ، بلین ٹری سونامی اور نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم شامل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں