150

’ ہمارے ساتھ جو ہوا، اچھا ہوا‘ دبئی میں پکڑی گئی غیرملکی ماڈلز کا سافٹ ویئربھی اپ ڈیٹ؟ حیران کن انکشاف کردیا

کیف(مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی میں ایک ہوٹل کی بالکونی میں برہنہ فوٹوشوٹ کرانے پر گرفتار ہونے والی 20ماڈلز میں سے آخری 2لڑکیاں بھی رہا ہو کر واپس یوکرین پہنچ گئیں اور اپنے دبئی کی جیل میں گزارے گئے دنوں کے متعلق چشم کشاانکشافات کر ڈالے ہیں۔ دی مرر کے مطابق ان میں ایک ماڈل 21سالہ ایوجینیا تیرن ہے جو ووگ میگزین کے لیے بھی ماڈلنگ کر چکی ہے جبکہ دوسری 22سالہ انستاسیا نامی ماڈل ہے جس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اس کی رہائی میں تاخیر ہوئی۔ 

ایوجینا تیرن نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا ہے کہ’آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ کیا معاملہ ہوا۔ دبئی کے ایک لگژری اپارٹمنٹ کی بالکونی میں ہم 20ماڈلز نے برہنہ فوٹوشوٹ کرایا تھا جس پر ہمیں گرفتار کر لیا گیا۔ جیل میں ہم نے ہر طرح کی محرومی دیکھی اور وہاں انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں دن گزارے۔ اس دوران میرے ذہن میں کئی وسوسے آئے اور مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہوا۔ کسی حد تک میں سمجھتی ہوں کہ ہمارے ساتھ جو ہوا، اچھا ہوا، کیونکہ ہمیں اس سے کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔میں واپس کیف (یوکرین کا دارالحکومت) پہنچ چکی ہوں۔ میں نے اس غلطی پر سب سے زیادہ 14دن جیل میں گزارے۔ باقی تمام ماڈلز کو ہفتے بعد رہا کر دیا گیا تھا تاہم مجھے اور ایک اورماڈل کو رہا نہیں کیا گی

ان کاکہناتھاکہ جیل میں ہمیں ایسے سیل میں رکھا گیا جہاں ہوا کی آمدورفت بھی نہیں تھی اور 24گھنٹے تیز روشنی رہتی تھی۔ وہاں ٹوائلٹ پیپر اور چمچ تک نہیں تھے اور ہمارے ساتھ عملے کا ایسا سلوک ایسا ناروا تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔سب سے خوفناک چیز یہ تھی کہ جیل کا عملہ ہماری کسی بات کا جواب ہی نہیں دیتا تھا۔ وہ ایسے گزر جاتے جیسے انہوں نے سنا ہی نہ ہو۔ جیل میں اتنے دن تک مجھے کچھ کتابوں نے محفوظ رکھا جو میں نے کسی طرح منت سماجت کرکے حاصل کر لی تھیں۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں