55

قاتلانہ حملے’ کے بعد محفوظ مقام پر منتقل ہو گیا ہوں: ندیم نصرت

ایم کیو ایم لندن کے سابق رہنما اور وائس آف کراچی کے سربراہ ندیم نصرت کا کہنا ہے کہ امریکا کے شہر ہیوسٹن میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد پولیس نے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ندیم نصرت کا کہنا تھا کہ ہیوسٹن میں مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، امریکا میں ایک شخص کو مجھ پر حملے کے الزام میں پہلے ہی سزا دی جاچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں خوش قسمت ہوں کہ قاتلانہ حملے میں محفوظ رہا تاہم انہوں نے کسی پر الزام تراشی یا کسی کا نام لینے سے گریز کیا۔

ندیم نصرت کا کہنا تھا کہ یوٹیوب پر میرے خلاف ویڈیوز بنا کر  اس قسم کا ماحول پیدا کیا گیا اور گزشتہ تین سالوں سے میرے خلاف شدید نوعیت کے اقدامات لینے کی باتیں کی جارہی ہیں، دو سال قبل مجھے، میری بیوی اور واسع جلیل کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں ایک شخص کے خلاف مقدمہ چلا اور اسے جیل ہوئی، اب دن دیہاڑے مجھ پر حملہ کیا گیا۔

حملہ کیسے ہوا؟

مذکورہ حملے کے حوالے سے بتاتے ہوئے ندیم نصرت کا کہنا تھا کہ وہ اتوار کو وائس آف کراچی کے ترجمان شاہد فرہاد کے ہمراہ ہائی وے 59 جنوبی پر سفر کر رہے تھے کہ انہوں نے ایک کالے رنگ کی ایس یو وی کو اپنی گاڑی کے قریب آتے دیکھا۔

ایم کیو ایم لندن کے سابق رہنما کا کہنا تھا کہ پھر وہ گاڑی اور قریب آئی اور وہ اپنے فون پر ویب سائٹ دیکھ رہے تھے کہ اسی دوران حملہ ہو گیا۔

ندیم نصرت نے بتایا کہ شاہد فرہاد نے مشتبہ گاڑی کی پچھلی سیٹ سے ایک ہاتھ نکلتے ہوئے دیکھا جس میں پستول بھی تھی، تو انہوں نے اپنی گاڑی کو بریک لگائی جس سے مشتبہ گاڑی آگے چلی گئی اور  دوسری گاڑی سے جو فائر کیے گئے وہ نشانے پر نہیں لگے، میں نے گولیوں کے خالی خول ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھے جو ہمارے گاڑی کے اگلے حصے پر لگے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران شاہد فرہاد نے اپنی گاڑی کو آہستہ کیا تاکہ مزید گاڑیاں آگے آجائیں اور اسی اثناء میں مشتبہ گاڑی ہائی وے پر فرار ہو گئی۔  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں