75

دہلی: مردوں کو چتا دینے کیلئے پارکوں میں شمشان گھاٹ بنائے جانے لگے

کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر نے پورے بھارت میں تباہی مچادی ہے اور روزانہ دل دہلانے والے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ایک طرف اسپتالوں میں مریضوں کو داخل کرانے کے لیے گھنٹوں لگ جاتے ہیں لیکن مریض داخل ہو جائے تو اس کے زندہ واپس آنے کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا۔

بھارت میں کورونا وائرس کے نئے کیسز کے ساتھ ساتھ ہلاکتوں کی تعداد بھی روز بروز اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث دارالحکومت دہلی کے شمشان گھاٹوں میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ دہلی میں شمشان گاٹوں میں زیادہ مردے لانے اور رش کے باعث حکومت نے پارکوں میں عارضی شمشان گاٹ بنادیے ہیں۔

لواحقین ان عارضی شمشان گاٹوں میں ہی اپنے عزیزوں کی آخری رسومات ادا کرنے لگے ہیں۔ لوگوں نے اب اپنے عزیزوں کی لاشوں کو سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھوں اور پارکوں میں بھی جلا نا شروع کر دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بھارت کے دارالحکومت دہلی کے پارکوں میں شمشان گاٹ تعمیر کیے جارہے ہیں کیونکہ شہر کے شمشان گاٹوں میں مردوں کی اخری رسومات ادا کرنے کے لیے جگہ کم پڑگئی ہے۔

منگل  کے روز بھارت میں تین لاکھ 23 ہزار سے زائد کیسز رکارڈ کیے گئے جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد ایک کروڑ سات لاکھ سے زائد ہوگئی ہے۔ بھارت میں کورونا سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 92 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دہلی کی شمشان گاٹوں  لواحقین اپنے عزیزوں کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے لکڑی کے ڈھیر لگانے اور دیگر رسومات میں عملے کی مدد کرتے ہیں تاکہ چیتا کو جلدی جلایا جاسکے اور انتظار کرنے والی کی باری آسکے۔

دہلی میں لواحقین اپنے عزیزوں کو چیتا دینے کے لیے شمشان گاٹ کے بجائے  پارکس یا خالی گراؤنڈ کا رخ کرنے لگے ہیں کیونکہ شمشانوں میں اخری رسومات کے لیے  گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

دارالحکومت دہلی کے سرائے کالے خان شمشان میں کم از کم 27 نئے پلیٹ فارم بنائے گئے ہیں، جس میں مزید 80 پلیٹ فارمز کا اضافہ کردیا جارہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لاشوں کو جلایا جاسکے۔

کورونا وبا سے بھارت میں اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور صرف دہلی میں پیر کے روز 380 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ اسپتالوں میں  آکسیجن ، انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) کے بستر اور زندگی بچانے والی دوائیں ناپید ہوگئی ہیں۔

بھارت میں صرف چند ہی دنوں میں دس لاکھ سے زائد کورونا کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں