70

ایرانی عالم دین علی اکبر محتشمی پور 74 برس کی عمر میں کووڈ-19 سے انتقال کر گئے، جنہوں نے حزب اللہ کی بنیاد رکھی اور شام میں ایران کے سفیر کی خدمات بھی انجام دیں۔

خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق 74 سالہ علی اکبر محتشمی پور اس سے قبل بم حملے میں جانبر ہوئے تھے تاہم وہ اپنے دائیں ہاتھ سے محروم ہوگئے تھے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے کہا کہ علی اکبر محتشمی پور کورونا کے باعث شمالی تہران کے مقامی ہسپتال میں داخل تھے جہاں وہ دم توڑ گئے۔

وہ ایران میں انتخابی تنازع کے بعد گزشتہ 10 برس سے عراق کے شہر نجف میں مقیم تھے۔تحریر جاری ہے‎

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے تعزیتی پیغام میں علی اکبر محتشمی پور کی انقلابی خدمات کی تعریف کی جبکہ صدر حسن روحانی نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی اسلامی تحریک کے لیے وقف کردی تھی۔

عدلیہ کے سربراہ اور صدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی نے بھی ان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا اور علی اکبر محتشمی پور کے خاندان سے تعزیت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ مرحوم بیت المقدس کی آزادی کا سپاہی تھا اور صہیونیت کے خلاف لڑنے والے ابتدائی شخصیات میں سے تھے۔

رپورٹ کے مطابق 1947 میں تہران میں پیدا ہونے والے علی اکبر محتشمی پور، آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے اور ان کی ملاقات نجف میں ہوئی تھی جہاں وہ شاہ ایران شاہ محمد رضا پہلوی کی جانب سے انہیں جلا وطن کیے جانے کے بعد مقیم تھے۔‎

انہوں نے 1970 کی دہائی میں مشرق وسطیٰ جنگجوؤں کو متحد کرکے ایک اتحاد تشکیل دیا تھا اور انقلاب ایران کے بعد انہوں نے پاسداران انقلاب کی تشکیل میں معاونت کی اور شام میں ایران کے سفیر کے طور پر کام کیا اور حزب اللہ کی بنیاد بھی رکھی۔

علاوہ ازیں انہوں نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور ایران کے درمیان اتحاد میں معاونت کی اور 1979 میں انقلاب کے بعد ایران واپس لوٹے۔

صحافی رونین بریگمن نے اپنی کتاب رائز اینڈ کل فرسٹ میں لکھا کہ محتشمی پور پر قاتلانہ حملے کے وقت اسرائیلی ایجنسی موساد کو اس وقت کے وزیراعظم شمیر نے اجازت دی تھی اور انہوں نے 1984 میں ویلنٹائنز ڈے پر کتاب میں بم رکھ کر بھیجنے کا منصوبہ بنایا جو ایران اور عراق میں مقدس مقامات کے حوالے سے انگریزی میں لکھی گئی بہترین کتاب تھی۔

علی اکبر محتشمی پور نے جب کتاب کھولی تو دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں ان کا دایاں ہاتھ اور بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں اڑ گئیں تاہم وہ بچ گئے۔‎

انہیں ایران کا وزیر داخلہ بنایا گیا اور پارلیمنٹ میں سخت گیر رکن کے طور پر کام کیا اور 2009 میں اصلاح پسند تحریک کا حصہ بن گئے۔

بعد ازاں انہوں نے اپوزیشن گرین موومنٹ کی حمایت کی اور سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب پر تنازع ہوا۔

علی اکبر محتشمی پور نے اس وقت کہا تھا کہ اگر عوام کشیدگی سے گریز کرتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے باخبر ہوگئے تو ان کی جیت ہوگی کیونکہ عوام کے سامنے کوئی طاقت کھڑی نہیں ہوسکتی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں