23

مسجد اقصیٰ‌ اور فلسطینیوں‌ پر حملے، ترکی کا اسرائیل کے خلاف جوابی ایکشن

انقرہ: (,الشامی نیوز آن لائن نیوز) ترکی نے فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی بربریت پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے اسرائیلی وزیر کے دعوتِ نامے کو منسوخ کردیا۔

ترک میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی بربریت اور فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے استعمال پر ترکی نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے جون میں ہونے والی توانائی کانفرنس میں اسرائیلی وزیر توانائی یووال ستینتز کا دعوت نامہ منسوخ کر دیا۔

ترکی نے اپنے فیصلے اسرائیلی حکام کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مسجدِ اقصیٰ اور اسرائیلی فوج کی فلسطینی شہری آبادی پر ہونے والی بمباری کے خلاف احتجاجاً یہ ردِعمل دیا گیا ہے۔

قبل ازیں مسلمانوں کے قبلۂ اول پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینوں کے حق میں ترک دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا۔ ترک مظاہرین ریلی کی شکل میں اسرائیلی سفارتخانے پہنچے اور موبائل کی ٹارچ جلاکر فلسطینیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسلم ممالک کے سربراہان کے نام پیغام جاری کیا۔ جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب مظلوم فلسطینیوں کا عملی طور پر ساتھ دیا جائے۔

مزید پڑھیں: انٹرنیشنل فٹبالرز کا اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج، فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی

قبل ازیں اسرائیلی بمباری سے فلسطین میں قائم غزہ کی پٹی میں موجود کثیر المنزلہ رہائشی عمارت زمیں بوس ہوئی ہے۔

دوسری جانب گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیل کے جنگی طیاروں نے غزہ پٹی کی شہری آبادی پر راکٹ حملے کیے، جس کے نتیجے میں دس بچوں سمیت اٹھائیس فلسطینی شہید ہوگئے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پیر کی شب غزہ کی پٹی اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری سےگونجتی رہی جبکہ رات کی تاریکی میں دھماکے کے بعد آگ کے بلند ہوتے شعلے بھی دیکھے گئے۔

یروشیلم کے قریبی علاقے شیخ جراح میں پچھلے کئی روز سے جاری احتجاج پر پولیس حملے سے حالات مزید سنگین ہو گئے جس کے نتیجے میں کئی فلسطینی زخمی ہوئے جبکہ متعدد فلسطینیوں کو پولیس نے حراست میں لیا گیا ہے۔

جنگی طیاروں سے بمباری کے علاوہ اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس میں موجود شہریوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا، جس کے نتیجے میں 700 سے زائد فلسطینی زخمی ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فنکاروں نے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کردی

رپورٹ کے مطابق شيخ جراح کاعلاقہ یہودی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان میدان جنگ بناہوا ہے۔ فلسطینی رہنماؤں کاکہنا ہے دو دن میں اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں 130 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

مغربی میڈیا نے سفارتی زرائع سے ملنے والی اطلاعات کو بنیاد بنا کر بتایا کہ اقوامِ متحدہ، مصر اور قطر اسرائیل سے مظالم روکوانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

علاوہ ازیں اسرائیلی فوج کی شیلنگ سے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں درختوں میں آگ لگی تو یہودیوں کے انتہا پسند جتھے نے شعلے اٹھتےدیکھ کر ہیجانی رقص کیا اور فتح کے نعرے بھی لگائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں