83

طالبان انسداد دہشتگردی سے متعلق اپنے وعدے پورے کریں”

ویب ڈیسک 1 مئی 2021

دوحہ: (الشامی نیوز آن لائن نیوز) افغان مسئلےکے پرامن حل سے متعلق دوحہ میں اہم بیٹھک ہوئی ہے، چار ملکی مذاکرات میں کیا اہم پیش رفت ہوئی؟ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دوحہ میں افغان مسئلے کے پرامن حل سے متعلق پاکستان، امریکا، روس اورچین کےنمائندوں کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں قیام امن کیلئےانٹرا افغان مذاکرات کو سپورٹ کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا، چاروں ممالک کے نمائندوں نےافغان طالبان ٹیم اور قطر کےنمائندوں سےبھی ملاقات کی۔

مذکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ افغان عوام کی جانب سے امن اور جنگ کےخاتمےکےمطالبےکی حمایت کرتےہیں،صرف افغانوں کے مابین سیاسی مذاکرات سے ہی اس مسئلےکاحل ممکن ہے، اس کے علاوہ افغان مسئلہ کا کوئی عسکری حل ممکن نہیں ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مذاکراتی فریقین پر زور دیتےہیں کہ جنگ بندی کیلئے سیاسی مذاکرات میں پیشرفت لائیں، دنیا منصفانہ، دیرپا سیاسی حل کے ذریعےآزاد، خودمختار،متحدافغانستان کےحامی ہے،ایسا افغانستان جو دہشتگردی،منشیات سے آزاد ہو،مہاجرین کی واپسی کی راہ ہموار کرے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ امریکا اور نیٹو کی جانب سےیکم مئی سے11ستمبر2021 تک مکمل فوجی انخلاکا فیصلہ نوٹ کیا، انخلا کے دوران امن عمل کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، افغانستان میں لڑائی بندہو،بین الاقوامی افواج کی حفاظت یقینی بنائی جائے،طالبان انسداد دہشتگردی کے اپنے وعدے پورےکریں۔

دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دوسرے ممالک کی سلامتی کو افغان سر زمین سےگزند نہیں پہنچنی چاہیے، زور دیتے ہیں کہ دہشتگرد کسی ملک کیخلاف افغان سر زمین استعمال نہ کریں، طالبان کسی بھی گروپ کو دہشت گرد کارروائیوں اور فنڈز اکٹھا کرنےسے روکیں گے،افغان تنازع کے خاتمے کے لئے تمام فریقین ملک میں تشدد میں کمی لائیں گے،عوام کی جانوں اورحقوق کاتحفظ کیاجائےگا، اس کے علاوہ افغانستان میں سفارتکاروں اور سفارتخانوں کا تحفظ کیا جائےگا،کابل میں کسی غیر ملکی سفارتی عملے پر حملےکا بھرپور جواب دیا جائےگا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ افغان حکومت، مصالحتی اعلیٰ کونسل کے طالبان سےکھلےعام مذاکرات پر زوردیتےہیں، افغانستان میں کسی زبردستی کی حکومت کی حمایت ہرگز نہیں کرتے، افغان طالبان کے افراد پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کا دوبارہ جائزہ لینےکی حمایت کرتے ہیں، ترکی کی طرف سے مفاہمتی کانفرنس کےانعقاد کی کوششوں کو بھی نوٹ کیا ہے، ان مذاکرات کےلئے اقوام متحدہ اور قطر کےکردار کو بھی سراہتےہیں۔

چاروں ممالک کے نمائندوں نے اپنے مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ امن معاہدے میں خواتین،بچوں،جنگ متاثرین،اقلیتوں کےحقوق کاتحفظ ہوناچاہے، معاشی اور سیاسی طور پر مضبوط اور قانون کی حکمرانی پرمبنی افغانستان ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں