56

کوئٹہ میں پینے کے پانی کابحران سنگین ہوتاجارہاہے‘ مقامی انتظامیہ کی نا اہلی

کوئٹہ(پ ر) سابق صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان خصوصاً کوئٹہ میں پینے کے پانی کا بحران سنگین ترہوتاجارہاہے اس حوالے سے حکومت کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کررہی اگر عدالتوں کو تمام معاملات حل کرنا ہے تو پھر پارلیمنٹ کا کیا فائدہ جیونی ، گوادر میں پینے کے پانی کے بحران کا معاملہ بھی میں نے عدالت میں اٹھایا جس پر عدالت نے پی ایس ڈی پی میں جیونی ، گوادر میں پانی کے منصوبوں کو اولین ترجیحات میں شامل کرنے کا حکم دیاکیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی پانی کابحران عدلیہ کے ذریعے حل ہوگا انہوںنے کہاکہ اگر نام نہاد سی پیک بلوچستان کے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم نہیں کرسکتی تو دیگرمنصوبوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے حکومت کو مسائل کے حل کیلئے سنجیدگی کامظاہرہ کرناچاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں