83

کراچی سرکلر ریلوے: شہری تاحال فائدہ اٹھانے سے قاصر، اخراجات آمدن سے تجاوز کر گئے

کراچی: (الشامى نىوز)صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے شہریوں کو سفری سہولت دینے کے لیے چلائی گئی کراچی سرکلر ریلوے سفید ہاتھی بن گئی، 20 روز میں ریلوے پر 1 کروڑ کی لاگت آچکی ہے جبکہ اس کی آمدن بمشکل 4 لاکھ روپے ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے کا اعلان کردہ ٹریک جو گنجان آبادی والے علاقوں سے گزر رہا تھا، وہاں پر اب بھی ٹرین نہیں چلائی گئی۔

ٹرین کو 14 کلو میٹر کے ٹریک پر ڈرگ روڈ سے لے کر براستہ گلستان جوہر، گلشن اقبال، لیاقت آباد، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، اورنگی ٹاؤن، گلبائی، سٹی اسٹیشن تک جانا تھا تاہم یہ ٹرین ابھی تک ریلوے کی مین لائن پر ہی چل رہی ہے۔

گنجان آبادی والے علاقوں میں ابھی تک ریلوے ٹریکس اور اسٹیشنز کلیئر نہیں کیے گئے اور یہاں پر تجاوزات قائم ہیں، اکثر مقامات پر ریلوے ٹریک ختم ہوچکا ہے۔

جہاں تجاوزات قائم ہیں وہاں یا تو انہیں ہٹانے کا کام تاحال شروع نہیں کیا گیا، یا پھر جہاں شروع کیا گیا وہاں شہریوں کی مزاحمت کی وجہ سے کام مکمل نہ کیا جاسکا۔

مین لائن سے چلنے والی سرکلر ٹرین میں روزانہ 100 سے ڈیڑھ سو افراد ہی سفر کر رہے ہیں جبکہ اس کی گنجائش 500 افراد کی ہے۔

علاوہ ازیں یہاں سے بھی صرف 2 ٹرینیں چلائی جارہی ہیں جن کے اوقات کار صبح اور شام کے ہیں، 18 دسمبر سے کل 4 ٹرینیں چلانے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن فی الحال اس پر عملدرآمد کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

19 نومبر سے شروع کی جانے والی کراچی سرکلر ریلوے پر 20 روز میں ایک کروڑ روپے کی لاگت آچکی ہے جبکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدن صرف 4 لاکھ روپے ہے۔

ریلوے ٹریکس کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ فی الحال اگلے ایک سال تک اس ریلوے کی مکمل طور پر بحالی کا کوئی امکان نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں