58

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیب کو بھجوائے گئے کیسز پر پیش رفت کی رپورٹ طلب کر لی

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے نیب کو بھجوائے گئے کیسز پر پیش رفت کی رپورٹ طلب کر لی۔ پی اے سی نے کہا کہ نیب نے بیوروکریٹس یا سیاستدانوں سے کتنی ریکوری کی؟، کتنے افراد نے پلی بارگین کیا؟، تفصیلی رپورٹ فراہم کی جائے۔

 پی اے اسی کا کہنا ہے کہ نیب پریس کانفرنس کر دیتا ہے کہ 4 سو ارب روپے کی ریکوری کرلی ہے، بتایا جائے کہ یہ ریکوری کہاں سے کی؟

پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین رانا تنویر حسین نے نیب سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ نیب چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو جواب دہ ہیں، پی اے سی کے زیر التوا کیسز پر تفصیلی رپورٹ جمع کروائیں۔

 دوران اجلاس رکن کمیٹی خواجہ آصف نےکہا پی اے سی کو کیسز نیب یا ایف آئی اے کو نہیں بھجوانے چاہئیں، پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے۔

رکن کمیٹی ایاز صادق نے کہا آج تک یہ پتہ نہیں چلاکہ نیب نے کس سیاستدان یا بیوروکریٹ سے کتنی ریکوری کی۔

اجلاس میں وزارت ترقی و منصوبہ بندی کے مالی سال 2019-20 کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔

نیشنل لاجسٹک سیل کی جانب سے کراچی انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے ساتھ 2017 میں بغیر بولی 96 کروڑ روپے کے معاہدے کا معاملہ پیپر کو بھیج دیا گیا، دیکھا جائے گا کہ رولز کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔

نیشنل لاجسٹک سیل کی جانب سے 2017 میں تین کنٹریکٹرز کو اضافی 17 کروڑ 80 لاکھ روپےکی ادائیگی اور 2017 میں ہی ایک کنٹریکٹر کو 12 کروڑ روپے کی ناجائز رعایت دینے کا معاملہ ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹنگ کمیٹی کو بھجوادیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں