85

ن لیگ کے صدر شہباز شریف کو جیل سے رہا کر دیا گیا

لاہور : سابق وزیر اعلیٰ پنجاب وقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے شہباز شریف کی ضمانت کے آرڈر جاری ہونے کے بعد ان کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے ضمانتی مچلکے احتساب عدالت نمبر 2 میں جمع کروائے، ملک سیف کھوکھر اور چودھری محمد نواز شہباز شریف کے ضمانتی ہیں۔

احتساب عدالت نے شہباز شریف کی جانب سے جمع کروائے گئے مچلکوں کا جائزہ لیکر  ان کی رہائی کی روبکار جاری کی جس کے بعد انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما  شہباز شریف نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا   ، اس  درخواست میں نیب کو فریق بنایا گیا۔شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی ۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ کا ریفرنس دائر ہو چکا ہے، ٹرائل جاری ہے، کئی ماہ سے جیل میں قید ہوں، تمام ریکارڈ نیب کے پاس ہے نیب نے کوئی ریکوری نہیں کرنی۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ ٹرائل باقاعدگی سے جوائن کرتا رہوں گا عدالت ضمانت پر رہائی کا حکم دے۔

واضح رہے کہ قو می احتساب بیورو (نیب) نے 11 جون 2019 کو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا۔

11فروری 2020 کو ، لاہور ہائی کورٹ نے غیر قانونی اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے معاملات میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

17اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کی اہلیہ، دو بیٹوں، بیٹیوں اور دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔اس ریفرنس میں مجموعی طور پر 20 لوگوں کو نامزد کیا گیا جس میں 4 منظوری دینے والے یاسر مشتاق، محمد مشتاق، شاہد رفیق اور احمد محمود بھی شامل ہیں۔ تاہم مرکزی ملزمان میں شہباز شریف کی اہلیہ نصرت، ان کے بیٹے حمزہ شہباز (پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر)، سلمان شہباز (مفرور) اور ان کی بیٹیاں رابعہ عمران اور جویریہ علی ہیں۔

ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے۔

28 ستمبر 2020 کو قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کے بعد تحویل میں لے لیا گیا۔

شہباز شریف کو اس سے قبل رمضان شوگر ملز اور آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس کے سلسلے میں 05 اکتوبر 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

11نومبر 2020 کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں فرد جرم عائد کی۔  احتساب عدالت نے 26 نومبر کو رابعہ عمران، داماد ہارون یوسف اور بیٹے سلیمان شہباز جبکہ 8 دسمبر کو نصرت شہباز کو اشتہاری قرار دیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ  نے 24 فروری 2021 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کو   ایک، ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا۔

منی لانڈرنگ ریفرنس میں حمزہ شہباز کو 11 جون 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ لاہور ہائیکورٹ دو مرتبہ ضمانت کی درخواست واپس لیے جانے کی بنیاد پر حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر چکی ہے۔حمزہ شہباز کے خلاف نیب نے اس وقت دو ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کر رکھے ہیں جن میں سے ایک منی لانڈرنگ اور دوسرا آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ہے۔ نیب نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات میں گواہان کی تعداد 110 ہے جبکہ آٹھ گواہان اپنے بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں۔

گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے کیس میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 50، 50 لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں