78

مینار پاکستان پر پی ڈی ایم کا جلسہ: تابعدار کو این آر او نہیں ملے گا، مریم نواز

لاہور (الشامی نیوز)مریم نواز نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب میں کہا ہے کہ تین سال تک این آر او نہ دینے کا اعلان کرنے والا خود این آر او مانگ رہا ہے لیکن تابعدار کو این آر او نہیں ملے گا۔

مریم نواز نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے زندہ باد لاہوریو کا نعرہ لگایا اور آج زندہ دلان لاہورں نے خوش کردیا ہے، جس نے دیکھنا ہو دیکھ لو نہ صرف مینار پاکستان بلکہ پل اور ارد گرد کی سڑکوں میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جلسے کے منتظمین نے بتایا تھا کہ یہاں ہزاروں کرسیاں لگائی گئی ہیں لیکن یہاں کوئی کرسی نظر نہیں آرہی ہیں کیونکہ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، کون کہتا تھا کہ کرسیاں نہیں ملیں گی، کرسی والوں کے خلاف مقدمے بناؤں گا، نہ تمھاری کرسیوں کی ضرورت ہے اور نہ اجازت کی ضرورت ہے۔تحریر جاری ہے‎

ان کا کہنا تھا کہ لاہور کی قلفی جما دینے والی سردی میں کئی گھنٹوں سے کھڑے ہو جس کو میں سلام پیش کرتی ہوں، سگے بھائی کی طرح سندھ کو خوش آمدید کرتے ہیں، لاہور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو خوش آمدید کہتے ہیں اور لاہور کی جانب سے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پنجاب سگے بھائی کا کردار ادا کرے گا، یہاں سب برابر ہیں کوئی بڑا بھائی نہیں ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ جس طرح لاہور میں کئی جگہ میرا استقبال کیا اور ساری زندگی بھی اس کا جواب دوں تو اس کا جواب نہیں ہوگا، جتنی ہماری بہنیں یہاں جلسے میں شریک ہیں ان کی حفاظت کے لیے اپنے بھائیوں سے درخواست ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں آج مینار پاکستان میں نہ صرف تاریخی جلسہ کیا، تین سال کون فرعون کے لہجے میں کہتا تھا کہ این آر او نہیں دوں گا لیکن اب خود این آر او مانگ رہا ہے لیکن نواز شریف اس کو این آر او نہیں دے گا۔

وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ 2011 میں آپ نے مینار پاکستان میں جلسہ کیا تھا، عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ جلسہ کس نے کروایا تھا، وہ جلسہ اس وقت کے آئی ایس آئی کے چیف جنرل شجاع پاشا نہیں کروایا تھا، پھر 2013 کے انتخابات میں عبرت ناک شکست ہوئی تو تمھہیں سمجھ آگیا کہ عوام کے ووٹوں سے وزیراعظم بنوں گا نہیں تو تابعداری کرنے سے وزیراعظم بنوں گا۔تحریر جاری ہے‎

ان کا کہنا تھا کہ پھر کسی نے کہا کہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچاؤ اور نواز شریف نے ان دھرنوں کے باوجود جو تم نے جنرل پاشا اور جنرل ظہیرالاسلام کی مدد سے کئے تھے، لوڈ شیڈنگ ختم کی اور عوام کی خدمت کی۔

انہوں نے کہا کہ پھر تمہیں نئی بات سوجھی اور کرپشن کا راگ الاپنا شروع کیا اور جسٹس کھوسہ نے تم کو کہا کہ میرے پاس درخواست لاؤ میں تمھاری مدد کرتا ہوں اور فکس میچ کے ذریعے تم نے نواز شریف کو اقامہ پر باہر نکلوایا۔

مریم نواز نے اس موقع پر عمران خان کی مختلف تقاریر اور پروگراموں کی ویڈیو کلپس چلائیں، جس میں وہ نواز شریف کی تعریف کر رہے تھے کہ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے زمین فراہم کی اور جمہوریت کے لیے اپوزیشن کو متحد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کو دھاندلی اور فکس میچ کے ذریعے حکومت مل گئی لیکن اس کے سلیکٹرز نہیں جانتے تھے کہ اتنا نالائق اور اتنانااہل نکلے گا اور آج کی نالائقی کا جواب اس کے سلیکٹرز کو دینا پڑ رہاہے۔تحریر ج

انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان کے سائے میں کھڑے ہو کر عوام سے وعدے کیے تھے اور ایک مرتبہ پھر عمران خان کی تقاریف کی ویڈیو چلائی گئی۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کہتا تھا کہ جب حکمران چوری کرتا ہے اس کی قیمت عوام مہنگائی سے ادا کرتے ہیں پھر چور کون ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ مینار پاکستان میں کھڑے ہو کر اس نےجھوٹے وعدوں کا پلندہ لے کر آیا تھا اور آج نوجوانوں اور طالب علموں سے ان کے اسکالرشپس واپس لے لیے ہیں اور طالب علم آج بھی سراپا احتجاج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسانوں پر خرچ کرنے کا وعدہ کرتا تھا لیکن آج ینگ ڈاکٹر، اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز، سرکاری ملازمین اور عوام سڑکوں پر ہیں اور صحت کا وعدہ کرکے گیا تھا اور کہا تھا کہ ہسپتال بناؤں گا، خیبرپختونخوا میں کورونا کے 7 مریض اس لیے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے کیونکہ انہیں وقت پر آکسیجن کےسلینڈر نہیں ملے۔

عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہتا تھا کہ بھیک نہیں مانگوں گا، قرضے نہیں لوں گا پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ اس تابعدار خان نے قرضوں کے نئے ریکارڈ لگا دیے اور ہمارے ملک پاکستان کو اس نے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا۔

قبل ازیں لاہور میں مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں پی ڈیم ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت اہل حدیث کے سربرہ ساجد میر نے کہا کہ یہ بیانیہ صرف نواز شریف نہیں بلکہ اپوزیشن، پی ڈی ایم اور عوام کا بیانیہ ہے۔

مینار پاکستان میں اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے مینار پاکستان میں جلسے کے لیے پنڈال سجا لیا ہے اور مولانا فضل الرحمٰن، مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر رہنما جلسہ گاہ میں موجود ہیں۔

مینار پاکستان میں مختلف جماعتوں کے کارکنان کی بھی بڑی تعداد موجود ہے جو اپنی جماعتوں کے پرچم تھامے ہوئے نعرے لگا رہے ہیں۔

بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ میں آج کے جلسے کے منتظمین، پاکستان مسلم لیگ (ن) اورپی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کو مبارک باد اور سلام پیش کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ جلسوں کو جلسی کہا گیا اورمیں بھی ان کو جلسے نہیں کہتا بلکہ ان کو میں ان غیر جمہوری قوتوں، آمروں کی پیداوار کا، طاقتوں جنہوں نے 70 برسوں سے اس ملک کے آئین کو اپنےگھرکی لونڈی سمجھا ہوا ہے اور 70 برسوں سے سنگینوں سے حکمرانی ہے اور ان جلسوں کو نماز جنازہ سمجھتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس جلسے کے آخر میں مولانا فضل الرحمٰن ان آمروں اور ہمارا استحصال کرنے والی قوتوں کی نماز جنازہ بھی پڑھائیں گے۔

اختر مینگل نے کہا کہ ‘بلوچستان میں جو شورش ہے کیا اس کے ذمہ دار ہم ہیں یا کوئی اور ہے، 70 برسوں میں ہم نے ایک دن بھی چین کا نہیں دیکھا، ہمارے گاؤں اجاڑ دیے گئے، ہمارے بچے چھین لے گئے، بہنوں کے سروں سے دوپٹے چھین لیے گئے، ماؤں کے سامنے ان کے نوجوان بچوں کا قتل عام کیا گیا لیکن ہم نے جمہوریت کا پرچم بلند رکھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ آج آپ جن نام نہاد حکمرانوں، خلائی مخلوق، اس قوت کے خلاف جس نے آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر ہمیشہ ردی کی ٹوکری میں پھینکا ہے، اس کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ان کے غیر انسانی اور غیر اخلاقی فیصلوں کا ذمہ دار کون ہے۔

جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ ساجد میر نے کہا کہ میں لاہور کے شہریوں کو مبارک باد اور خرج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کی تمام رکاوٹوں اور جھوٹے ڈراموں کے باوجود اور روکنے کے باوجود مینار پاکستان کے سائے میں عظیم الشان اورقابل دید جلسہ منعقد کرکے حکومت اور اس کے کارندوں کو زبردست ناکامی اور شکست دے دوچار کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا بنایا ہوا یہ نیا پاکستان کیسا لگ رہا ہے، نام نہاد پاکستان سے وہی پاکستان اچھا تھا جس میں مہنگائی آج کے مقابلے میں بہت کم تھی اور عوام دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان کی حکومت قرنطینے میں ہے، معیشت کو آئی سی یو میں ڈال دیا ہے اور عوام مہنگائی اور بہت سی مشکلات کا شکار ہیں۔

ساجد میر کا کہنا تھا کہ یہ بیانیہ نواز شریف کا نہیں بلکہ پوری اپوزیشن اور پی ڈی ایم کا ہے، اس کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کا استعمال مختلف ہوسکتا ہے لیکن اس بیانیے کی تصدیق ہر شہری کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیانیہ یہی ہے کہ اس ملک کے عوام کو اپنی حکومت اپنے ووٹوں سے منتخب کرنے کا حق اور الیکشن کا حق ملنا چاہیے، عوام کے ووٹ سے جو حکومت آئے، اس کو اور اس کے ووٹ کو عزت ملے اس کو بغیر کسی مداخلت اور بغیر رکاوٹ کے حق حکومت کے لیے آزاد ہو۔

انہوں نے کہا کہ اس بیانیے کی تصدیق کراچی میں مریم نواز کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے ہوئی، اس واقعے کی تحقیقات خود فوج نے کی اور اس میں بھی اس بیانیے کی تصدیق کی اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے کتاب لکھ کر تصدیق کی کہ فوج ادارے انتخابات اور حکومت کے کاروبار میں آج تک مداخلت کرتے آئے ہیں۔

ساجد میر نے کہا کہ یہی وہ مداخلت ہے جس کو ختم کرنے کے لیے ہم میدان میں آئے ہیں، ووٹ کو عزت دے کر عوام کو حق حکومت واپس دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی مدد سے ہم اس بیانیے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

اے این پی کے سیکریٹری جنرل اور پی ڈی ایم کے ترجمان نے قرار داد پیش کی اور کہا کہ اس عظیم الشان کے توسط سے اس حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم پاکستان کی وفاقیت کی علامت ہے، اس کو کسی صورت نہ چھیڑا جائے اور صوبائی خود مختاری کو نہ چھیڑا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بے گناہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، بے گناہ ہوتو رہا اور اگر گناہ گار ہوں تو سزا دی جائے، پمز ہسپتال میں ایک آر ڈیننس جاری ہوا ہے جہاں ڈاکٹروں اور ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور اس کو جلدی واپس لیا گیا۔

افتخار حسین نے کہا کہ گوادر شہر کے گرد لگائی گئی باڑ کی مذمت کرتے ہیں اور اس کو جلد از جلد ہٹایا جائے، کورونا اور وبا سے جان بچائی جائے، ماسک، سنیٹائزر کو استعمال کیا جائے لیکن ہم عمرانی کورونا کو نہیں مانتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کا جلسہ ہوا نہیں تھا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ جلسہ ناکام ہوگیاہے، میں ان سے کہتا ہوں کہ یہاں کر عوامی سمندر دیکھو، لاہور نے آج دکھا دیا ہے، لاہور والو تم نے کر کے دکھایا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن بات کرنا چاہتے ہیں تو ان سے کریں، اگر وہ نہیں مانتے ہیں تو ترکی کے طرز پر انقلاب کی بات پکی ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالات انقلاب کے لیے پکے ہیں، اگر ہماری اسٹبلشمنٹ پیچھے نہیں ہٹی تو مریم نواز آپ رہنمائی کریں، ہم آپ کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی کے طرز پر اس اسٹبلشمنٹ کے خلاف پر پورے پاکستان کو جلسہ گاہ میں تبدیل کرتے ہیں پھر دیکھیں خلق خدا نہ کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بالکل انقلاب فرانس کی طرح تاریخ نے مریم نواز، بلاول بھٹو اورمولانا فضل الرحمٰن کو ایک موقع دیا ہے، بسم اللہ کیجیے، عوامی انقلاب، اسلامی انقلاب اور غریبوں کے انقلاب کی رہبری کریں۔

اے این پی کے رہنما امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ لاہور آپ کا شکریہ ہم پختون وفاداری کی قدر کرتے ہیں اور ہمیں آپ لوگوں کی وفاداری کی قدر ہے اورلاہور نے آج ثابت کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کا ایک اقامے کی بنیاد پر ارشد ملک جیسے جج کے ذریعے نااہل کیا گیا، ان کی بیٹی کو ان کے سامنے گرفتار کیا گیا تاکہ وہ ان کی کمزوری بنے لیکن وہ ان کی طاقت بن گئی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی خدمت کرنے والے اور ملک کے سب سے محنتی وزیراعلیٰ شہباز شریف کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا اور ان کے بیٹے کو بھی قید کرکے پنجاب ایک ایسے آدمی کے حوالے کردیا گیا جو یونین کونسلر منتخب نہیں ہوسکتا۔

امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ سو سال قبل باچاخان نے عدم تشدد کی بات کی لیکن ان پر تشدد ہوا اور انہیں غدار قرار دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج جو ظلم اور ناانصافی ہورہی ہے، اس سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ جو بات باچاخان نے آج سے کئی 80، 90 سال پہلے کہی تھی وہ سچ ثابت ہو رہی ہے۔

قبل ازیں جلسہ گاہ پہننچے سے قبل پی ڈی ایم کے صدر اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے صدر سردار اختر مینگل اور عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق کے گھر پہنچے جہاں انہیں ظہرانہ دیا گیا۔

اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ریلی کی قیادت کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق کے گھر پہنچے، جس کے بعد وہاں مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا۔

پی ڈی ایم رہنماؤں کے اجلاس میں آئندہ کے لائحہ سے متعلق مشاورت کی گئی، جس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنما سردار ایاز صادق کی رہائش گاہ سے جلسہ گاہ روانہ ہوئے۔

خیال رہے کہ آج کا جلسہ اپوزیشن کی حکومت مخالف شروع کی گئی تحریک کے پہلے مرحلے کا آخری جلسہ ہے جس کے بعد یہ اپوزیشن اتحاد دوسری حکمت عملی اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے، جلسے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کی جدوجہد کے ’فیصلہ کن مرحلے‘ کا اعلان بھی متوقع ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حکومت مخالف جلسوں کا باقاعدہ آغاز 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ جلسے سے ہوا تھا جس کے بعد یہ اتحاد کراچی، کوئٹہ، پشاور اور ملتان میں جلسے کرچکا ہے۔

اس تمام صورتحال کے حوالے سے جلسے کے لیے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رضاکار ونگ انصار الاسلام کے 3 ہزار رضاکار سیکیورٹی کے فرائض انجام رہے ہیں جبکہ خواتین شرکا کے لیے الگ سے گیٹ مختص کیا گیا ہے۔

اپوزیشن اتحاد نے آج کے اس جلسے کے لیے سیاسی ماحول کو کافی گرم کیا ہوا ہے اور اس سلسلے میں پی ڈی ایم میں شریک جماعتوں کے قیادت نے مختلف ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

وہی دوسری جانب اگرچہ حکومت کی جانب سے پی ڈی ایم کے جلسے کے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم حکومت نے جلسے کے لیے کرسیاں، میز، ٹینٹ وغیرہ فراہم کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔

حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر پی ڈی ایم کو جلسے مؤخر کرنے کا کہا گیا تھا تاہم اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے آخری لمحات میں اتوار کے جلسے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے اور وہ جلسے میں آنے والے شرکا کو روکنے کا ارادہ نہیں رکھتی اور اپوزیشن کو یہ موقع دینا چاہتی ہے وہ اکتوبر 2011 میں اسی مقام پر کیے گئے عمران خان کے جلسے سے مقابلہ کرے۔

تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) نے حکومت کی جانب سے پی ڈی ایم کو جلسے کے لیے فری ہینڈ دینے پر شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد کا اگلا مرحلہ جنوری میں شروع ہوگا جس میں پی ڈی ایم آخری شو سے قبل ملک بھر میں 16 مزید ریلیوں کا منصوبہ رکھتی ہے۔

آخری شو میں پی ڈی ایم جماعتوں کا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفے شامل ہیں۔

لیگی رہنما کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ جنوری میں پی ڈی ایم لانگ مارچ سے قبل کچھ ’پردے کے پیچھے‘ پیش رفت ہوسکتی ہے۔

مریم اور بلاول کا مینار پاکستان پر پہلا جلسہ

مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری—تصویر: ڈان نیوز
مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری—تصویر: ڈان نیوز

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) مینار پاکستان پر ایک جلسہ کرنے جارہی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا یہ اس مقام پر پہلا جلسہ ہے۔

اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بھی مینار پاکستان میں سیاسی جلسے میں یہ پہلی شرکت ہوگی۔

اس مقام پر جاکر جلسے سے ان کی والدہ محترمہ بینظیر بھٹو کے 1986 کے منار پاکستان کے تاریخی جلسے کی یادیں تازہ ہونے کی اُمید ہے۔

جلسے کے لیے سیاسی گہما گہمی

آج کے جلسے میں کارکنان کی شرکت یقینی بنانے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے لاہور میں سیاسی حل چل دکھائی اور مریم نواز نے 14 حلقوں میں کارنر میٹنگ بھی کیں۔

انہوں نے لوگوں سے خطاب میں کہا کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلیں اور پی ڈی ایم کے منار پاکستان جلسے میں شریک ہوں تاکہ اس حکومت کو گھر بھیجا جاسکے۔

جلسے سے قبل ہفتے کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے ڈان سے گفتگو میں منار پاکستان پر جلسے کی اہمیت پر زور دیا۔

دہشت گردی کا خطرہ

ادھر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ’دہشت گردی کے خطرے کے الرٹ‘ اور کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر پی ڈی ایم کو منار پاکستان کا جلسہ ملتوی کرنے کا کہا تھا۔

اس کے علاوہ صوبائی وزیر قانون راجا بشارت نے بھی بتایا تھا کہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت کو قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے جاری کیے گئے خطرے کے الرٹ سے متعلق آگاہ کردیا تھا۔

اسی طرح لاہور پولیس کی جانب سے بھی بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف کو بھی دہشت گردی کے خطرے سے متعلق الرٹ جاری کیا تھا۔

یاد رہے کہ نیکٹا کی جانب سے 13 دسمبر کو لاہور میں ممکنہ دہشت گردی کا الرٹ جاری کیا گیا ہے، اس حوالے سے 2 الگ الگ نوٹیفکیشنز بھی جاری کیے گئے تھے۔

ان نوٹیفکیشنز میں کہا گیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور حزب اسلامی افغانستان (ایچ آئی اے) کی جانب سے پی ڈی ایم کے لاہور جلسے کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

جلسے سے قبل کارکنان کو جوش دلانے کے لیے ریلی نکالی گئی—تصویر: مسلم لیگ (ن) ٹوئٹر
جلسے سے قبل کارکنان کو جوش دلانے کے لیے ریلی نکالی گئی—تصویر: مسلم لیگ (ن) ٹوئٹر

ایک نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ ‘اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی کے دہشت گرد 13 دسمبر کو دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے تفصیلات دستیاب نہیں کہ حملہ کہاں کیا جاسکتا ہے اور نشانہ کون ہوگا، لیکن یہ اس تاریخ کے انتخاب کی بڑی وجہ مینار پاکستان پر عوام کا بڑے اجتماع ہوسکتی ہے’۔

دوسرے نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ ‘9 دسمبر کو مغربی سرحد کے اس پار ایچ آئی اے کے کارندوں کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا’۔

پی ڈی ایم کیا ہے؟

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، 20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تشکیل پانے والا 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو اپنے ’ایکشن پلان‘ کے تحت 3 مرحلے پر حکومت مخالف تحریک چلانے کے ذریعے حکومت کا اقتدار ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔

ایکشن پلان کے تحت پی ڈی ایم نے رواں ماہ سے ملک گیر عوامی جلسوں، احتجاجی مظاہروں، دسمبر میں ریلیوں اور جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف ایک ’فیصلہ کن لانگ مارچ‘ کرنا ہے۔

مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے پہلے صدر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف سینئر نائب صدر ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی اس کے سیکریٹری جنرل ہیں۔

اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اس اتحاد میں بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں، تاہم جماعت اسلامی اس اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں