18

ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان پر توجہ نہیں دی کیونکہ ماضی کی حکومتوں کا مائنڈ سیٹ ہی نہیں تھا کہ بلوچستان کے لیے کچھ کرنا ہے، عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے کوئٹہ میں بلوچستان کے منصوبوں کا سنگ بنیااد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر خوشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی حکومت بنتی ہے وہ کسی نظریے پر آتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو عزت دیتا ہے جو دنیا کے لیے کچھ کرتا ہے۔ کامیابی اور عزت اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا ان لوگوں کو یاد کرتی ہے جو انسانیت کے لیے کچھ کر کے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کو عزت دیتا ہے جواس کی مخلوق کے لیے کام کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت سنبھالی تو صوبے کو دہشت گردی کا سامنا تھا اور مخالفین کہتے تھے کدھر ہے نیا پاکستان ،کہاں ہے نیا خیبر پختونخوا ؟

وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے سیاسی دوست نے مشورہ دیا کہ پنجاب پر توجہ دیں اور خیبر پختونخوا میں جیت کا چانس نہیں ہے۔ لاہورمیں اسپتال بنانے پر لوگوں نے گنگا رام کی تعریف کی لیکن ہمیں 2018 کے انتخابات میں خیبرپختونخوا سے دوتہائی اکثریت اس لیے ملی کہ وہاں غربت میں کمی آئی۔۔ خیبرپختونخوا میں انسانوں پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آج بنگلہ دیش پاکستان سے آگے نکل گیا ہے۔ چھوٹا سا طبقہ ملک کے وسائل پر قبضہ کر کے بیٹھا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے لندن کے امیر ترین علاقوں میں جائیدادیں لیں، ہمارے حکمرانوں نے لندن میں وہاں جائیداد لی جہاں ان کے وزیر اعظم بھی نہیں لے سکتے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے لندن کے ان علاقوں میں جائیدادیں لیں جہاں برطانوی وزیر اعظم بھی نہیں لے سکتا۔ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان پر توجہ نہیں دی کیونکہ ماضی کی حکومتوں کا مائنڈ سیٹ ہی نہیں تھا کہ بلوچستان کے لیے کچھ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تب ترقی کرے گا جب نچلا طبقہ ترقی کرے گا۔ چین نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا اور مغربی چین کی ڈویلپمنٹ کے لیے سی پیک پر توجہ دے رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے ہیں اور ماہی گیروں کو بھی آسان اقساط پر قرضے دیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں