92

قصور: محدود تعداد میں پولیس اہلکاروں کا منشیات کا ٹیسٹ، 50 فیصد ‘مثبت’

ضلع قصور میں منشیات کے ٹیسٹ کے لیے منتخب کیے جانے والے 48 میں سے 24 پولیس اہلکاروں کا نتیجہ ‘مثبت’ آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ پولیس میں اصلاحات لانے کے لیے وزیر اعظم کے حکم پر پولیس عہدیداروں کے منشیات کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔

پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) نے کانسٹیبل سے لے کر پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) افسران تک کے عہدیداروں کا ڈرگ ٹیسٹ کروانے کی ہدایت جاری کی تھی۔

کانسٹیبلز اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئی) سمیت 48 عہدیداروں کے نمونے دو روز قبل ہی منشیات کے ٹیسٹ کے لیے ضلع میں جمع کیے گئے تھے۔تحریر جاری ہے‎

دلچسپ بات یہ ہے کہ منشیات کے ٹیسٹ کے لیے اے ایس آئی رینک سے اوپر کسی پولیس اہلکار کا نام نہیں تھا۔

ضلعی پولیس کے مطابق اہلکاروں کو داخلی انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر منشیات کے ٹیسٹ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

ضلعی پولیس نے کسی سرکاری ہسپتال کی لیبارٹری کے بجائے نجی لیب سے نمونوں کے ٹیسٹ کرائے تھے۔‎

اس انتخاب کی وضاحت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمران کیشور نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کے مقابلے میں نجی لیب زیادہ قابل اعتماد ہیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں میں سے اکثریت منشیات کا استعمال کرتی ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے ٹیسٹ کا عمل اسی طرح تھا جو تھانے کی سطح پر تفتیش کے دوران عام مشتبہ افراد کو منشیات کا عادی قرار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیشتر پولیس اہلکار مفت حاصل ہونے پر منشیات کا استعمال کرنے لگتے ہیں لہذا ‘مال خانے’ میں چیک اینڈ بیلنس کا سخت نظام ہونا چاہیے، جہاں مجرموں سے برآمد شدہ منشیات کو عدالت میں پیش کرنے سے پہلے رکھا جاتا ہے۔

ٹیسٹ کے بعد نشے کا عادی قرار دیے جانے والے پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر مطالبہ کیا کہ اعلیٰ عہدیداروں کو بھی ٹیسٹ کے لیے منتخب کیا جائے تاکہ آئی جی پی کے حکم کو اس کی روح کے مطابق لاگو کیا جاسکے۔

تاہم ڈی پی او نے کہا کہ ٹیسٹ میں مثبت آنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ کوئی اہلکار دراصل نشے کا عادی تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی نیند کی گولی بھی کھاتا ہے تو اس کا منشیات کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آئے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف ایک ماہر ہی لیب کی رپورٹس کی تصدیق کرسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں