113

قبل از وقت قیمتیں بڑھانے سے 7 آئل کمپنیوں نے 2ارب سے زائد کمایا، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے بحران سے متعلق درخواستوں پر کمیشن کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ وقت سے چار دن پہلے قیمتیں بڑھانے سے سات آئل کمپنیوں نے دو ارب سے زائد کمایا۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کے بحران سے متعلق دائر مخلتف درخواستوں پر سماعت کی جہاں پیٹرولیم کمیشن نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ جمع کرا دی۔

اس موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل اسد باجوہ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پیٹرولیم بحران سے متعلق رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت خود رپورٹ پبلک کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے حکم پر کل رپورٹ کابینہ کے سامنے میں پیش کی جائے گی اور منظوری کے بعد جاری کردی جائے گی جس پر چیف جسٹس قاسم خان نے استفسار کیا کہ 2 دسمبر کے بعد کیا اب تک پیٹرولیم کا معاملہ کابینہ کے زیر غور آیا، ہر منگل کو کابینہ کا اجلاس ہوتا ہے، کیا گورنمنٹ ہر تاریخ پر یہی کھیلتی رہے گی کہ معاملہ آج کل کابینہ کے پاس جا رہا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ 3 دسمبر کو معاملہ کابینہ میں جانا تھا کیوں نہیں گیا، عدالت کے احکامات کی روشنی میں بنائے گئے کمیشن اور عام کمیشن میں فرق ہوتا ہے، قانون کے مطابق 30 دن میں رپورٹ پبلک کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساری کابینہ مل کر کہہ دے کہ یہ رپورٹ جاری نہیں کرنی پھر بھی یہ رپورٹ جاری ہو گی، جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ کل کابینہ کے سامنے کمیشن کی رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پیٹرولیم کمیشن سے متعلق معاملہ 3 دسمبر کو کابینہ اجلاس میں نہیں رکھا گیا، کیا فیصلے میں لکھ دوں کہ یہ معاملہ کابینہ میں نہ اٹھانا حکومتی بدنیتی پر مبنی تھا،تحریر جاری ہے‎

لاہور ہائی کورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات بحران سے متعلق رپورٹ خود جاری پبلک کرنے کا فیصلہ کیا اور چیف جسٹس نے کہا کہ ہم خود اس سے پبلک کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود کمیشن کے سربراہ کو حکم دیا کہ عدالت کو کمیشن کی رپورٹ کی سمری سے متعلق بتائیں۔

پٹرولیم کمیشن کے سربراہ ابوبکر خدا بخش نے رپورٹ کے اہم نکات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزارت توانائی کے پاس مکمل ریکارڈ نہیں تھا اور او سی اے سی کے پاس بھی مکمل ڈیٹا نہیں تھا، 2002 میں اوگرا کی تشکیل ہوئی اور 2006 میں اوگرا کو آئل سیکٹربھی دیا گیا۔تحریر جاری ہے‎

انہوں نے کہا کہ آئل کمپنیوں کے پاس 20 دن کا بیک اپ ہونا چاہے تھا لیکن ان کے پاس صرف 12 دن کا بیک اپ تھا، 6 ماہ کا اسٹاک کم تھا لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جبکہ عدالت کے نوٹس لینے کے بعد اسٹاک اور قیمتوں کی طرف تھوڑا بہت دھیان دیا گیا۔

ابوبکر خدا بخش نے بتایا کہ 7 مئی تک پی ایس او کے تین جہاز پیٹرول لے کے آچکے تھے اور اس معاملے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کردار بھی اچھا نہیں رہا،

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت 40 ڈالر فی بیرل سے 7 ڈالر پر آگئی، جس کا کئی ملکوں نے فائدہ اٹھایا لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس وقت فائدہ نہیں اٹھایا اور32 روپے ڈیزل اور 26 روپے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں 6 اور سری لنکا میں 5 آئل کمپنیاں ہیں جبکہ پاکستان میں مجموعی طور پر66 آئل کمپنیاں ہیں، جس پر چیف جسٹس قاسم خان نے پوچھا کہ ریٹائرڈ جنرل یا ان کے رشتے دار یا ریٹائرڈ بیوروکریٹ یا ان کے رشتے داروں کی کتنی کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔

کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان میں دو کمپنیاں زیادہ سپلائی دیتی ہیں، حکومت کے مقررہ وقت سے چار دن پہلے قیمتیں بڑھانے سے 7 آئل کمپنیوں نے 2 ارب سے زائد کمایا۔

انہوں نے کہا کہ جن کے پاس پیٹرول اسٹاک میں موجود تھا انہوں نے 5 ارب روپے کمائے،ایک کمپنی جس کا ایک بھی پٹرول پمپ نہیں اس سے ایک ہزار ٹن کا کوٹہ دیا گیا۔

سربراہ کمیشن نے انکشاف کیا کہ جن کو ڈی جی آئل تعنیات کیا گیا ہے وہ ویٹرنری ڈاکٹر ہیں جبکہ اوگرا کی آئل انسپکشن نہیں ہے۔

کمیشن نے اوگرا کو تحلیل کرنے کی سفارش کر دی اور کہا کہ نئے پیٹرولیم رولز بننے چاہئیں، 15 دن کہ بجائے، تیس دن بعد قیمتوں پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔

پیٹرولیم کمیشن کے سربراہ نے پٹرولیم بحران کا معاملہ نیب کو بھجوانے کی بھی سفارش کر دی۔

انہوں نے کہا کہ شیل کمپنی 6 ماہ یا ایک سال بعد یہاں سے بھاگ جائے گی۔

کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ بائیکو ریفائنری کے مالک نیب کو مطلوب ہیں، جو بندہ قانون کا بھگوڑا ہو اس سے لائسنس جاری نہیں کیا جا سکتا، بائیکو ریفائنری کے مالک پر 23 ارب سے زائد کے ہیر پھر کا الزام تھا لیکن اس نے پلی بارگین کر لی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ 23 ارب کے الزام پر نیب نے ایک ارب کی پہلی بارگین منظور کر لی اور پھر چیرمین نیب کہتے ہیں ہم نے ریکوری کر لی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 22 ارب کے ملزم کو فائدہ ہوا اور بندہ صاف ستھرا ہو کہ باہر آگیا۔

کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کمیشن نے پیٹرول کی اسمگلنگ کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا، اسمگلنگ کا 20 فیصد پیٹرول پکڑا جاتا ہے اور باقی نہیں پکڑا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمگلنگ کی وجہ سے ایف بی آر ٹیکس اکٹھا نہیں کر سکتا اور اس سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہو رہا ہے۔

عدالت نے حکمدیا کہ ہر صورت عوام کو پیٹرول کی وافر فراہمی یقینی بنائی جائے، وفاقی حکومت اور ڈپٹی کمشنر پیٹرولیم مصنوعات کی وافر فراہمی کو یقینی بنائیں۔

چیف جسٹس نے کمیشن کی رپورٹ درخواست گزاروں کو دینے کی ہدایت کی اورکہا کہ کس کے خلاف اور کس قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ اب عہدوں پر نہیں ہیں، ان کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے، نیب اور ایف آئی اے کے تحت کس کے خلاف فوجداری مقدمات بنائے جا سکتے ہیں، عدالت کو بتایا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت پر تجاویز طلب کرتے ہوئے سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں