20

رنگ روڑ اسکینڈل:اینٹی کرپشن پنجاب نے انکوائری شروع کر دی

وزیراعلی پنجاب کی ہدایات پر اینٹی کرپشن نے راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل پر انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔

ترجمان اینٹی کرپشن پنجاب کے مطابق ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب محمد گوہر نفیس نے انکوائری ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

راولپنڈی رنگ روڈ انکوائری ٹیم قانونی، تکنیکی اور معاشی ماہرین پر مشتمل ہے۔  انکوائری ٹیم نے اسکینڈل کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

مکمل تحقیقات کے بعد اسکینڈل کے تمام حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو راولپنڈی رنگ روڈ پرتحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

ترجمان حکومت پنجاب کے مطابق کرپشن کرنے والے منطقی انجام سے نہیں بچ سکیں گے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل کے تمام کرداروں کو کیفرکردار تک لازمی پہنچائیں گے۔

خیال رہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں الزامات کی وجہ سے وزیراعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار بخاری نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزامات سے بری ہونے تک عہدے سے مستعفیٰ رہوں گا، اس منصوبے سے کوئی لینا دینا نہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ سال ستمبر میں راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی منظوری دی تھی۔ منصوبے کی ابتدائی لاگت کا تخمیہ25ارب روپے لگایا گیا تھا۔

بعد ازاں نامعلوم وجوہات کی بنا پر وزیراعظم نے منصوبے کو رکوا دیا اور تحقیقات کی منظوری دی۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد گزشتہ رات حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں متعدد سرکاری اہلکاروں کو عہدوں سے ہٹانے کے متعلق بتایا گیا۔

ذرائع کے مطابق اصل منصوبہ تبدیل کر دیا گیا تھا جس سے لاگت میں اضافہ ہوا۔ عمران خان نے منصوبے کی لاگت بڑھنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکوائری کی ہدایت کی تھی۔

باوثوق ذرائع نے بتایا کہ انکوائری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رنگ روڈ کے اصل نقشے کو تبدیل کر کے اس میں مزید نئے راستے شامل کردئیے گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں