59

اختلافات دور’ کرنے کیلئے بلاول بھٹو زرداری کی مصطفیٰ نواز کھوکھر سے آج لاھور میں ملاقات متوقع

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان کی حیثیت سے مستعفی ہونے والے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی آج بلاول بھٹو زارداری سے ملاقات متوقع ہے۔

تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین نے ذاتی طور پر مصطفیٰ نواز کھوکھر سے رابطہ کیا اور دونوں کے مابین نامعلوم معاملات پر ‘اختلافات’ دورے کرنے کی کوشش کے طور پر ملاقات کے لیے مدعو کیا۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی کہ جب سے وہ مستعفی ہوئے ہیں پی پی پی چیئرمین ان سے مختلف مواقعوں پر فون کر کے ملاقات کا کہہ چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ سینیٹر نے بلاول بھٹو زرداری کی دعوت قبول کرلی ہے جس کے بعد دونوں آج لاہور میں ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اپنے استعفے سے متعلق اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے مصطفٰی نوا کھوکھر نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ میں نے چیئرمین کے ترجمان کی حیثت سے استعفیٰ دیا ہے پیپلزپارٹی سے نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہیں گے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں نے بطور ترجمان ایمانداری، خلوص اور ملک اور پارٹی کے بہترین مفاد میں مشورے دیے۔

تاہم انہوں نے اپنے فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی تھی جس سے ان اطلاعات کو تقویت ملی تھی کہ وہ کچھ روز سے پارٹی قیادت سے ‘ناخوش’ اور ‘غیر مطمئن’ تھے۔

اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنے اچانک فیصلے کے پس پردہ اصل وجہ بتانے سے انکار کرتے ہوئے صرف یہ کہا تھا کہ اہم پارٹی عہدہ چھوڑ دینے کے بعد وہ اب پارٹی کے معاملات پر زیادہ کھل کر بات کرسکتے ہیں۔

مصطفیٰ نوا کھوکھر کا شمار صف اول کے ان پارٹی رہنماؤں میں ہوتا ہے جو میڈیا میں اپنی جماعت کا بھرپور اور پرزور دفاع کرتے ہیں، انہوں نے اتوار کے روز لاہور میں ہونے والے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں بھی شرکت نہیں کی اور اپنے آبائی شہر اسلام آباد میں رہنے کو فوقیت دی تھی۔

اس ضمن میں پیپلز پارٹی کے متعدد رہنماؤں سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ نوا کوکھر نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر پارٹی کی حالیہ سرگرمیوں سے فاصلہ اختیار کررکھا ہے۔

انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا تھا کہ سینیٹر نے کچھ پارٹی معاملات پر اختلافات کے سبب استعفیٰ دیا اور بتایا کہ ‘ان کے اور پارٹی چیئرمین کے درمیان کچھ ہوا ہے

اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے ایک عہدیدار نے اس پیش رفت سے آگاہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ‘شاید مصطفیٰ نواز کھوکھر کو بلاول بھٹو کا رویہ یا ان کی کہی کوئی بات بری لگی ہے جسے انہوں نے انا کا مسئلہ بنا لیا ہے’۔

دوسری جانب سینیٹر کی جانب سے پارٹی چیئرمین کو جو استعفیٰ بھیجا گیا اس کا متن بھی اس نقطہ نظر کو تقویت دیتا ہے۔

انہوں نے لکھا تھا کہ ‘ میں نے آپ کی توقعات پر اترنے کی اپنی حتی الامکان کوششیں کیں اور اب شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم باوقار طریقے سے ایک دوسرے کو جگہ دیں’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں