80

لال بخار: متاثرہ فرد سے دور رہنا بہتر ہے!

اسلام آباد (الشامی نیوز آن لائن نیوز )کیا آپ “لال بخار” کے بارے میں‌ کچھ جانتے ہیں؟ عام جسمانی تکالیف اور طبّی مسائل کے علاوہ انسان کو لاحق ہونے والے امراض میں بخار بھی شامل ہے جس کی مختلف صورتوں میں علامات اور اسباب بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔ لال بخار انہی میں سے ایک ہے جو زیادہ تر کم عمری میں‌ لاحق ہوتا ہے۔

اس مضمون کو پڑھ کر آپ لال بخار سے متعلق آگاہی اور اس کے بارے میں اپنی عام معلومات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

طبّی ماہرین کے مطابق لال بخار کی وجہ انفیکشن ہوتا ہے اور یہ عموماََ گلے کی خرابی یا خراش کا شکار ہونے والے افراد کو لاحق ہوتا ہے۔ یوں‌ کہہ لیں کہ گلے کی خراش یا سوزش کا سبب بننے والے بیکٹیریا اس بخار کی وجہ بنتے ہیں۔

لال رنگ سے بخار کا کیا تعلق ہے؟

اسے لال بُخار کہنے کی وجہ اس مرض کی شدّت کے دوران جسم پر نمودار ہونے والے دانے ہیں جن کی رنگت سرخ ہوتی ہے۔ اسی طرح‌ جسم کے مختلف حصّوں کی جلد اور حلق بھی سرخ ہو جاتا ہے۔ تیز بخار کے دوران گلے میں‌ بھی درد ہوتا ہے اور مریض دانوں کی وجہ شدید بے چینی محسوس کرتا ہے۔

لال بخار کی عام علامات

جلد پر سرخ ابھار یا دانے نمودار ہونا بچّوں اور بڑوں میں لال بُخار کی سب سے عام علامت ہے۔ اس بخار کی صورت میں ہماری جلد پر ننھے ننھے سرخ دانے سب سے پہلے سینے اور پیٹ پر نمودار ہوتے ہیں اور پھر باقی جسم پر پھیل جاتے ہیں۔ اس بخار میں‌ جسم کے جوڑوں کے درمیان جلد کی رنگت بھی سرخ ہوجاتی ہے۔ یہ دانے کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ سات دن تک برقرار رہ سکتے ہیں اور پھر خود ہی مندمل ہوجاتے ہیں۔

لال بُخار میں بغلوں، کہنیوں اور گھٹنوں پر سرخ لکیریں پڑ جاتی ہیں۔ یہ بھی اس کی عام علامت ہے۔ مریض کو بخار کے ساتھ سَر میں درد محسوس ہے، متلی اور قے کے ساتھ اس کی گردن کے پچھلی جانب موجود غدود پھول جاتے ہیں۔

بخار کے اسباب

طبّی سائنس نے لال بُخار کا سبب بننے والے بیکٹیریا کو اسٹریپٹوکوککس (Streptococcus ) کا نام دیا ہے جو منہ اور سانس کی نالی میں رہ سکتا ہے۔ یہ ایسا زہریلا مادّہ خارج کرتے ہیں جس سے جسم پر سرخ دانے نکلنے لگتے ہیں۔

لال بُخار متعدی بیماری ہے اور متأثرہ شخص کے چھینکنے اور کھانسنے سے صحّت مند انسان بھی اس کا شکار ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسے مریض کا استعمال شدہ تولیا، چادر، رومال یا ٹشو وغیرہ چُھوئے یا استعمال کرے تو یہ جراثیم اس کے جسم میں منتقل ہوسکتے ہیں۔

لال بُخار سے دو ہفتے میں نجات مل جاتی ہے، لیکن بَروقت علاج نہ کرنے سے یہ کانوں اور جلد کے انفیکشن اور نمونیے کا سبب بن سکتا ہے۔ عام طور پر لال بخار کے مریض کو اینٹی بایوٹک ادویّہ دی جاتی ہیں جو بیکٹیریا کو ختم کرتی ہیں۔

طبّی محققین کے مطابق اکثر پانچ سے پندرہ سال کی عمر تک کے بچوں کو متاثر کرنے والا یہ بخار کبھی بہت عام تھا، لیکن اب اس کے بہت کم کیس سامنے آتے ہیں۔ طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ صحّت مند انسان کو لال بخار سے متاثرہ فرد سے فاصلے پر رہتے ہوئے بات چیت کرنا چاہیے اور خاص طور پر اس وقت دور ہوجانا چاہیے جب وہ کھانس یا چھینک رہا ہو۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں