12

بلڈ پریشر میں کمی کرنے میں مددگار طریقے

الشامی نیوز آن لائن نیوز اسلام آباد پاکستان

بلند فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر بے حد عام ہوتا جارہا ہے اور یہ امراض قلب اور فالج کا سبب بن سکتا ہے، ایک سروے کے مطابق تقریباً 52 فیصد پاکستانی آبادی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے اور 42 فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں کیوں مبتلا ہیں۔

تاہم ایسے کچھ طریقے ہیں جن کے ذریعے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے۔

ورزش ہائی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لانے کے لیے بہترین ذرائع میں سے ایک ہے۔ ورزش کو معمول بنانا دل کو مضبوط کرتا ہے اور خون پمپ کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق نمک کی زیادہ مقدار کے استعمال کا تعلق ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب اور فالج سے جوڑا گیا ہے۔ اگر آپ پہلے سے ہائی بلڈ پریشر کے شکار ہیں تو غذا میں نمک کا استعمال کم کردیں۔

پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں جیسے سبز پتوں والی سبزیاں، ٹماٹر، آلو، شکر قندی، تربوز، خربوزے، کیلے، مالٹے، خوبانی، دودھ، دہی، مچھلی، گریاں اور بیج کا استعمال بلڈ پریشر کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

کیفین کا زیادہ استعمال بھی دل کی دھڑکن کی رفتار اور بلڈ پریشر کو بڑھا دیتا ہے۔

تناؤ بلڈ پریشر کو بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اگر ہر وقت تناؤ کا سامنا ہو تو دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے اور خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں۔

ڈارک چاکلیٹ اور کوکا پاؤڈر فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتے ہیں، جو ایسا نباتاتی مرکب ہے جو خون کی شریانوں کو کشادہ کرتا ہے، فلیونوئڈ سے بھرپور کوکا دل کی صحت کو مختصر مدت میں بہتر بناتا ہے اور بلڈ پریشر کی سطح بھی کم ہوتی ہے۔

موٹاپے کے شکار افراد جسمانی وزن میں کمی لاکر دل کی صحت کو نمایاں حد تک بہتر بناسکتے ہیں۔

سگریٹ میں شامل نکوٹین بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے، جو لوگ دن بھر بے تحاشہ تمباکو نوشی کرتے ہیں ان کا بلڈ پریشر ہمیشہ بڑھا ہوا ہی رہتا ہے۔

ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ میٹھے مشروبات کا کم استعمال بلڈ پریشر میں کمی لاتا ہے۔

بیریز پولی فینولز، قدرتی نباتاتی مرکبات سے بھرپور ہوتی ہیں جو دل کی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں، پولی فینولز فالج، امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ کم کرتے ہیں جبکہ بلڈ پریشر، انسولین کی مزاحمت اور ورم کو بہتر بھی کرتے ہیں۔

جن لوگوں کو کیلشیئم کی کمی کا سامنا ہوتا ہے ان میں اکثر ہائی بلڈ پریشر عام ہوتا ہے۔ کیلشیئم سپلیمنٹس تو بلڈ پریشر میں کمی نہیں لاتیں مگر اس جز سے بھرپور غذائیں ضرور مفید ثابت ہوتی ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں