60

3 پلانٹس کو پی ایس او، ایس این جی پی ایل سے ایل این جی کی خریداری سے چھٹکارا مل گیا

اسلام آباد: ( الشامی نیوز) پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اپنی کمپنیوں کو پہنچنے والے نقصانات کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی کابینہ نے پنجاب کے تینوں آر ایل این جی کے ‘کم از کم 66 فیصد ٹیک یا پے کی شرط کو ختم کرنے کی منظوری’ دے دی تاکہ میگا پاور پلانٹس کی بہتر نجکاری سے آمدنی حاصل ہو اور بجلی کے شعبے کی واجبات کو 2 ارب 15 کھرب روپے سے کم کیے جاسکیں۔

تفصیلات کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے واضح کیا کہ بجٹ میں دی جانے والی سبسڈی کے بغیر اس فیصلے کا مطلب یہ ہوگا کہ ‘بجلی کی ڈویژن کمپنیوں سے سرکلر ڈیٹ پیٹرولیم ڈویژن کمپنیوں کو منتقل کیا جائے گا اور حقیقت میں اس میں اضافہ ہوگا’۔

ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے الشامی نیوز کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں ایک ہزار 220 اور ایک ہزار 130 میگاواٹ کے ایل این جی پر مبنی بجلی کے تین منصوبوں کو فارغ کرنے کے لیے توانائی (سی سی او ای) کی کابینہ کمیٹی کے منتخب ارکان کے اکثریتی رائے کی تائید ہوئی۔تحریر جاری ہے‎

انہوں نے بتایا کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) سے گارنٹی شدہ 66 فیصد ایل این جی خریداری جن میں قطر اور نجی سپلائرز سے ایل این جی خریداری کے لیے 100 فیصد کی گارنٹیڈ وعدے ہیں۔

کابینہ نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وہ 4 آر ایل این جی پر مبنی سرکاری پاور پلانٹس (جی پی پی) قائداعظم تھرمل پلانٹ، پنجاب تھرمل پلانٹ، بلوکی پلانٹ اور حویلی بہادر شاہ پلانٹ کے لیے سالانہ ہیڈ مستحکم سالانہ پروڈکشن پلان (سی اے پی پی) فراہم کرے۔

انہوں نے پاور ڈویژن کے اس مطالبے کو بھی قبول کیا کہ اگر ضرورت ہو تو سی اے پی پی کو ایک مرتبہ حتمی شکل دی جاسکتی ہے۔

سی اے پی پی کی طرف سے کسی بھی تنزلی سے بجلی کی تقسیم خالص کارروائی کے فرق سے مشروط کی جائے گی۔

تاہم سی اے پی پی میں کسی بھی قسم کی اضافے کو ایس این جی پی ایل نے ایک بہترین کوشش کی بنیاد پر پورا کیا جائے گا۔

چاروں بجلی گھروں سے متعلق خریداری کے معاہدوں (پی پی اے) اور جی ایس اے کو اسی کے مطابق ترمیم کیا جائے گا خصوصاً بالوکی اور حویلی بہادر شاہ کی نجکاری سے قبل ان کے معاہدوں میں ترمیم کی جائے گی۔

پاور ڈویژن نے بتایا تھا کہ سرکلر قرضوں میں کمی کے منصوبے کے تحت ایل این جی پر مبنی پاور پلانٹس کے معاہدے کے ڈھانچے میں تبدیلی کی تجویز پیش کی گئی تھی تاکہ آنے والے برس میں بجلی کو سستا اور سرکلر ڈیٹ کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکے۔

اس ضمن میں کہا گیا کہ جی پی پیز مقامی کوئلہ، لو پائپ لائن معیاری گیس اور درآمد شدہ کوئلے کے مقابلے میں غیر معاشی ہوگئی ہے جس کی وجہ بجلی کی طلب میں کمی اور دیگر عوامل ہیں۔

مزید یہ کہ اگر قیمتوں میں یہ رجحانات اور اس کے ساتھ ہی لوڈ کی پیشن گوئی کو برقرار نہیں رکھا گیا تو تین آر ایل این جی پلانٹس کے لیے موجودہ کم سے کم 66 فیصد لینے کی ضمانت دی جائے گی جس سے 2023 تک تقریباً 143 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔

علاوہ ازیں مالی سال 2024 میں اور اس سے آگے کی جنریشن پلانٹوں کے اجرا کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوجائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں