61

۔ سولہ سال سے باہر تھا۔ وزیراعظم نے بلایا تو نوکری چھوڑ کر آیا مگر کسی نے دفاع نہیں کیا۔ حکومت سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔ظفر مرزا

کراچی (الشامی نیوز) وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے استعفیٰ دینے کے بعد خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ کے اندر ان کے خلاف مہم چلائی گئی۔ سولہ سال سے باہر تھا۔ وزیراعظم نے بلایا تو نوکری چھوڑ کر آیا مگر کسی نے دفاع نہیں کیا۔ حکومت سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔

نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ظفر مرزا نے الزام عائد کیا کہ کابینہ کے اندر ان کے خلاف سازشیں ہوئیں۔ کابینہ میں غیر منتخب ارکان کے خلاف مہم شروع کی گئی۔ اس لیے سیاسی وجوہات پر استعفیٰ دیا کیوں کہ کابینہ میں منتخب اور غیر منتخب افراد کے مابین کشیدگی چل رہی ہے۔

ظفر مرزا نے انکشاف کیا کہ بھارت سے ہر قسم کی دوائیں اور خام مال درآمد کرنے کی اجازت وزیر اعظم سے لی تھی۔ بعد میں صرف جان بچانے والی ادویات کا شور مچایا گیا اور کابینہ میں اعتراض اٹھا تو وزیراعظم نے انکوائری کا حکم دیا۔ اب وہ انکوائری کہاں ہے۔ اس کا کیا نتیجہ نکلا۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ ٹیکنوکریٹس کو بلاکر کام لیتے ہیں تو ان کے خلاف پروپیگنڈے پرحکومت کو دفاع کرنا چاہیے۔ تانیہ کےساتھ بھی یہی ہوا کہ انہیں خود چھوڑنا پڑا۔ دفاع نہیں کرنا تو پھر واضح کریں کہ اس نے کچھ غلط کیا اور اس کے خلاف ایکشن لیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں