45

ہم نے شہریوں کیلئے فٹ پاتھوں کو کلیئر کرایا،میئر کے پاس تجاوزات کے خاتمہ کی ذمہ داری تھی انہوں نے نہیں کیا،ہم نے کابینہ کی منظوری سے آپ کے حکم پر عمل درآمد کرایا، سید مراد علی شاہ

کراچی (الشامی نیوز)چیف جسٹس نے کراچی میں تجاوزات ہٹانے کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر ایڈووکیٹ جنرل، سیکرٹری بلدیات اور کمشنر کراچی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کو فوری طلب کرلیا اور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ عدالت  پیش ہوگئے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مسٹر سی ایم ہم نے مئی 2019 میں حکم دیا تھا کیا ہوا اس کا ؟ جس پر مراد علی شاہ نےجواب دیا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کررہے ہیں معذرت چاہتا ہوں اگر درست رپورٹ پیش نہیں کرسکے،سندھ کے تمام محکمے اپنی رپورٹس عدالت میں پیش کرتے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے وزیر اعلی سندھ سے مکالمہ کیا کہ ہمیں آپ کی معذرت کی ضرورت نہیں ہے ہمیں حکم پر عمل آمد کی رپورٹ دیں،ہمیں تو سادہ سی بات بتائیں ہمارے حکم پر عمل ہوا یا نہیں ؟ایس بی سی اے سمیت تمام محکمے سمجھوتہ کرلیتے ہیں کام نہیں کرتے،سارا حکم نامہ ابھی پڑھ کر سنایا گیا بتائیں کچھ بھی عمل نہیں ہوا۔جس پر مراد علی شاہ نے کہا کہ میں معذرت کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا کہ کچھ نہیں ہوا،چیف جسٹس  بولے آپ کورٹ کے ساتھ عدم اتفاق نہیں کرسکتے،وزیر اعلی سندھ نے جواب دیا کہ میں عدالتی زبان نہیں جانتا وکیل نہیں ہوں اس لیے پیشگی معافی چاہتا ہوں۔چیف جسٹس نے کہا کہ زمینی حقائق یہی ہیں کہ کچھ نہیں ہوا ہے ،مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ فٹ ہاتھ تک کلیئر کرایا ، سی ایم ہاوس کے پاس کنٹینرز ہٹا لیے ،جس پر چیف جسٹس بولے وہ تو آپ کی سیکیورٹی کیلئے تھا اس سے ہمارا کیا تعلق، مرادی علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم نے شہریوں کیلئے فٹ پاتھوں کو کلیئر کرایا،میئر کے پاس تجاوزات کے خاتمہ کی ذمہ داری تھی انہوں نے نہیں کیا،ہم نے کابینہ کی منظوری سے آپ کے حکم پر عمل درآمد کرایا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ میرے احکامات نہیں عدالت کا حکم تھا،ہمیں کوئی ایک چیز بتا دیں کراچی کی بہتری اور اصل شکل میں بحالی کیلئے کیا قدم اٹھایا ؟ کراچی کے شہری تو گاوں میں رہتے ہیں سارا شہر گاوں میں تبدیل ہوگیا،نہ سڑکیں ہیں نہ پانی نہ پارک نہ میدان کچھ بھی نہیں ہے۔مراد علی شاہ نے جواب دیا کہ شہید ملت سے طارق روڈ تک نئی سیوریج لائنیں ، یونیورسٹی روڈ تعمیر کی، ہم پلانٹیشن کررہے ہیں ، سڑکوں کو وسعت دے رہے ہیں،اہم شاہراہوں پر کام کیا گیا ہے جبکہ کئی مقامات ہر کام جاری ہے،کچھ مہلت مل جائے تو عمل درآمد رپورٹ پیش کردیں گے جس پر عدالت نے حکم پر عمل درآمد کرکے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں