42

کورونا وائرس نے یورپی ممالک کو دوبارہ اپنی لپیٹ میں لے لیا

برسلز : (الشامی نیوز ) یورپی ممالک میں کورونا وائرس کی نئی لہر میں مزید شدت دیکھی جا رہی ہے، اسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث انتظامیہ کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔

یورپی ممالک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شدت اختیار کر رہی ہے، وبا کا پھیلاؤ روکنے اور معیشت کا پہیہ چلانے کے مخمصے میں مبتلا دکھائی دے رہے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یورپ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سامنے آنے والے کورونا کیسز کی تعداد میں44 فیصد اضافہ ہوا ہے، زیادہ تر یورپی ممالک کی حکومتوں نے وبا سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ رواں برس مارچ اور اپریل کے مہینوں میں غیر معمولی لاک ڈاؤن کرکے وائرس کے پھیلاؤ کو قابو میں لانے والے ملکوں میں کورونا کیسز ایک بار پھر بڑھ رہے ہیں اور پولینڈ سے پرتگال تک حکام صحت کے نظام پر بوجھ پڑنے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہے ہی

بلجیئم میں وزیر صحت نے نئے کیسز کو انفیکشنز کا سونامی قرار دیا ہے اور ملک میں ایمرجنسی کے علاوہ دیگر تمام طبی سہولیات کو معطل کر دیا گیا ہے تاکہ کورونا سے متاثرہ افراد کے علاج کو ترجیح دی جا سکے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یورپ کے دیگر ملکوں میں بھی کورونا کیسز کی تیزی سے بڑھتی تعداد کے باعث ہسپتالوں میں بلجیئم جیسی صورت حال ہے۔

اسپین کے شہر بارسلونا کے ڈلمر ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر جولیو پاسکل نے کہا ہے کہ جس رفتار سے گزشتہ ہفتے کے دوران نئے کیسز آئے ہیں اگر یہ برقرار رہی تو اسپتالوں میں ایسے مریضوں کے علاج کی سہولیات معطل کرنا پڑیں گی جو فوری اور ترجیحی نہ ہوں۔

یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریونشن اینڈ کنٹرول کے مطابق یورپ میں وبا کے 50 لاکھ سے زائد کیسز رجسٹر کیے جاچکے ہیں جبکہ وائرس سے مرنے والے افراد کی تعداد دو لاکھ سے زائد ہے۔

سینٹر کی گزشتہ ہفتے کی رپورٹ کے مطابق20 ملکوں میں وائرس کے نئے کیسز بڑھ رہے ہیں اور اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق صورت حال اس لیے بھی زیادہ پیچیدہ ہے کہ اب وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور ہسپتالوں پر بوجھ پڑنے سے بچنے کے لیے پہلے جیسا لاک ڈاؤن بھی نہیں کیا جا سکتا جس کے معاشی اثرات کے باعث عام لوگ اس کی حمایت نہیں کرتے۔

کاروبارِ زندگی کو بند نہ کرنے والی حکومتیں اب وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور معاشی پہیے کو چلائے رکھنے کے درمیان توازن پیدا کرنے کے لیے عوامی مقامات پر ہجوم کو کم کرنے جیسے اقدامات کر رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں