44

ڈسکوز کے باقاعدہ سی ای اوز، گیس یوٹیلیٹیز کے ایم ڈی تعینات کرنے کا عمل شروع، کابینہ کا اجلاس طلب

اسلام آباد:(الشامی نیوز) دو سال سے زیادہ عرصہ اقتدار میں رہنے کے بعد وفاقی کابینہ منگل سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے باقاعدہ / فل ٹائم چیف ایگزیکٹو آفیسرز (سی ای او) کی تقرری اور دو گیس یوٹیلیٹیز کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز کے انتخاب کی منظوری کے لیے عمل کا آغاز کرے گی۔

تفصیلات  کے مطابق یہ 30 ستمبر 2020 تک توانائی کے شعبے میں 23 کھرب روپے سے زائد کے گردشی قرضے ہونے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں سے گیس کی یوٹیلیٹیز، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) پر تقریباً 350 ارب روپے ہے۔

منگل کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوگا اور وزیر اعظم عمران خان اس اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں 7 ایجنڈا ہوں گے جن میں اعلیٰ عہدوں، چیف ایگزیکٹوز، منیجنگ ڈائریکٹرز اور بورڈ آف ڈائریکٹرز پر تعیناتی بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ کابینہ وزیر اعظم کے کورونا ریلیف فنڈ، احساس کفالت ادائیگیوں اور احساس قومی سماجی و معاشی سروے کے استعمال، وفاقی حکومت کے ذریعہ صوبوں کو فراہم کردہ فنڈز اور خود صوبوں کے ذریعہ تیار کردہ وسائل کا جائزہ لے گی۔

کابینہ میں وزارت انفارمیشن و ٹیکنالوجی کی کمپنی اگنائٹ کے سی ای او کی تعیناتی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی پی پی اے) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن اور کمیونٹی ویلفیئر کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے ممبران کے تقرر اور پاکستان کے بیرون ممالک مشن میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی تقرری پر غور ہوگا۔

ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ کابینہ بالترتیب ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹرز / سی ای او کے طور پر امیر طفیل اور جاوید ہمدانی کی تقرری کی منظوری دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سلیکشن کمیٹی نے امیر طفیل اور جاوید ہمدانی کو ایس این جی پی ایل کے لیے پہلے اور دوسرے آپشن کے طور پر ترجیح دی ہے۔

اسی طرح ایس ایس جی سی ایل کے لیے جاوید ہمدانی اور امین راجپوت پہلی اور دوسری پوزیشن پر ہیں۔

امید کی جا رہی ہے کہ کابینہ ڈسکوز کے سی ای او کے عہدوں کے لیے ایک اشتہار کی بھی منظوری دے گی۔

ڈسکو کے تقریبا تمام موجودہ سی ای او پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کے ایک اسٹاپ-گیپ انتظامات پر کام کر رہے ہیں۔

کابینہ کمیٹی برائے توانائی و منصوبہ بندی کے چیئرمین اسد عمر نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ پاکستان سیکرٹریٹ میں بجلی کمپنیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بجلی کا مرکز ختم کردیا جائے گا۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ایس او ایز کے لیے کارپوریٹ قواعد کے تحت ڈسکوز کے سی ای او کا انتخاب ان کے متعلقہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے مسابقتی عمل کے ذریعے کرنا ضروری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں حکم دیا تھا کہ سی ای اوز یا ایم ڈیز یا مختلف ایس او ایز کے سربراہان کی تمام موجودہ آسامیاں تین ماہ کے اندر پُر کی جائیں بصورت دیگر وزارتوں اور ڈویژنز کے وزراء اور سیکریٹریوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا یا انہیں ایک ہفتہ کے اندر پیشگی اطلاع دینی ہوگی کہ عہدوں کو تین ماہ میں کیوں نہیں پُر کیا جاسکتا ہے۔

چند وزارتوں نے آخری تاریخ میں توسیع کی کوشش کی تاہم وزیر اعظم کے دفتر نے اس اقدام کو مسترد کردیا تھا۔

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے معاملے میں چند بااثر شخصیات نے مبینہ طور پر موجودہ سی ای او کو ریٹائرمنٹ پر توسیع دلانے کی کوشش کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں