53

پانی سے متعلق پنجاب، سندھ کا تنازع مزید بڑھ گیا

دو بڑے صوبوں، سندھ اور پنجاب کے درمینا دیرینہ آبی تنازع نے ایک اور موڑ لے لیا جب سندھ نے وفاقی انسپکٹرز کو پانی کی پیمائش کا طریقہ کار دیکھنے اور پانی کے اصل بہاؤ اور نقصانات کا پتہ لگانے کے لیے گڈو بیراج جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے سیکریٹری نے اعلان کیا تھا کہ سہ فرقی ڈسچارج مانیٹرنگ ٹیم (ٹی ڈی ایم ٹی) 13 جون کو گڈو بیراج سے خارج ہونے والے پانی کی پیمائش شروع کرے گی تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے واپڈا حکام پر مشتمل ایک ٹیم گڈو بیراج کے معائنے کے لیے کسی کو بتائے بغیر 12 جون کو گئی تھی۔

واپڈا کے ایک سابق جنرل منیجر جو اس عمل میں شامل تھے، ان کا خیال تھا کہ صوبوں کو معلومات فراہم کرنے کے بعد کسی طرح کا معائنہ کرنا فضول ہوگا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ ‘اگر آپ سب کو بتانے کے بعد وہاں جاتے ہیں (جیسا کہ منصوبہ بندی اور اعلان کیا گیا ہے) تو کیا یہ خود کو شکست دینے کی مشق نہیں ہوگی؟ لہذا غیر اعلانیہ طور پر وہاں جانا مزید معنی خیز ہے’۔تحریر جاری ہے‎

اس سے قبل سندھ نے اس معاملے میں وفاقی وزارت آبی وسائل کے کردار کو چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ صوبوں کے درمیان آبی تنازع کو حل ارسا کی ذمہ داری ہے۔

سندھ کے سیکریٹری آبپاشی محمد سلیم رضا نے وفاقی سیکریٹری برائے آبی وسائل کو خط لکھا تھا کہ وفاقی وزارت آبی وسائل کا ‘صوبوں کے اندر آبی تنازع / معاملات کو حل کرنے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، پانی کے معاہدے کے تحت یہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کا اختیار ہے’۔

اس حوالے سے صوبائی حکومت نے وفاقی وزارت کو بتایا تھا کہ 15 جون کو ہونے والے وزارت کے اجلاس میں سندھ سے کوئی بھی اہلکار شرکت نہیں کرے گا۔تحریر جاری ہے‎

اس خط کے بعد سندھ نے وفاقی انسپکٹرز، جو پہلے تونسہ گئے تھے، کو بغیر کسی اطلاع کے گڈو کی جانچ پڑتال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

تاہم انکار نے پنجاب کی تشویش میں اضافہ کیا، جس نے فوری طور پر سندھ پر الزام لگایا کہ وہ مسئلے کا حل نہیں چاہتا ہے۔

پنجاب کے محکمہ آبپاشی کے ترجمان نے دعوٰی کیا ہے کہ وفاقی وزارت آبی وسائل سہ فریقی انتظامات کا ایک حصہ ہے (جس میں وفاقی وزارت آبی وسائل اور سندھ، پنجاب اور واپڈا کے نمائندے شامل ہیں)۔

یہ بھی پڑھیں: ارسا نے صوبہ سندھ کو پانی کی فراہمی میں اضافہ کردیاتحریر جاری ہے‎

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں اس پر اتفاق کیا تھا، اب ان سے کیوں جھگڑا؟ یہ سندھ تھا جس نے سب سے پہلے ارسا سے اپنے حصے کی شکایت کی تھی، اس کے بعد یہ اپنا معاملہ قومی اسمبلی اور آخر کار وزیر اعظم کے دفتر لے کر گیا، تمام فورمز میں ’تھرڈ پارٹی کی نگرانی‘ پر اتفاق رائے ہوا تھا، سندھ اب اس مطالبے اور اس پر متفق ہونے سے گریز کر رہا ہے۔

پنجاب اب ارسا کو خط لکھ رہا ہے کہ قومی اسمبلی اور وزیر اعظم کے دفتر سے قبل یہ فیصلہ ہوا تھا کہ عارضی طور پر ابتدائی خریف کے دوران پانی کی تقسیم اور اس دوران پانی کے اصل نقصانات کا پتہ لگایا جائے گا۔

پنجاب کا مطالبہ ہے کہ جب تک سندھ تھرڈ پارٹی کے معائنے کی اجازت دینے پر راضی نہیں ہوجاتا، ارسا کو معاہدے میں درج نقصانات کی ہی اجازت دی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سندھ کے غیر تصدیق شدہ دعوے اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی بھی اس کی اجازت نہیں دے سکتا، ابتدائی خریف کے لیے 30 فیصد کی اجازت دی گئی تھی لیکن سندھ نے 39 فیصد کا دعوی کیا ہے، اس اضافی 9 فیصد کا مطلب ہے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ فٹ، جو ملک کے پاس موجود ذخائر سے زیادہ ہے’۔

سندھ کے وزیر آبپاشی سہیل انور سیال نے دعوٰی کیا کہ 24 مئی کو منعقدہ اجلاس میں بیراجوں کی نگرانی پر اتفاق رائے ہوا جس کی صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے چیئرمین نواب یوسف تالپور نے کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے 27 مئی کو 24 مئی کے اجلاس میں وزیر اعظم کے فیصلے کا ذکر کیا تھا۔

مزید پڑھیں: حکومت سندھ کا ارسا چیئرمین کو ہٹانے کا مطالبہ

صوبائی وزیر نے کہا کہ انہوں نے صوبوں میں پانی کی تقسیم کے لیے ارسا کی جانب سے لگائے گئے تین درجے کے فارمولے کو مسترد کردیا ہے۔

مشترکہ مفادات کونسل

سندھ کے وزیر آبپاشی سہیل انور سیال کے مطابق آبی وسائل کے لیے وفاقی وزارت کا صوبوں کے درمیان آبی تنازع سے متعلق معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

انہوں نے پانی کے وسائل کے لیے ارسا اور وفاقی وزارت کے سیکریٹریوں کے خطوط پڑھنے کے بعد ڈان کو بتایا کہ ‘ارسا کو ان معاملات سے نمٹنا ہے اور اگر وہ حل نہ کرسکا تو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) ایک متعلقہ فورم ہے’۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نواز یوسف تالپور نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کے بیراجوں پر بہاؤ کی آزادانہ نگرانی کے تقرری میں کوئی نقصان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں نے اس معاملے پر مزید تبادلہ خیال کرنے کے لیے قائمہ کمیٹی کا اجلاس 16 جون کو طلب کیا ہے’۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لنک کینال اس وقت تک نہیں کھولی جاسکتی ہیں جب تک کہ پانی زیادہ نہ ہو اور اس لیے انہیں تحریری طور پر وزیر اعظم سے رجوع کرنا پڑا۔

سہیل انور سیال نے حیرت کا اظہار کیا کہ ‘ارسا مشاورتی عمل سے کیوں گریز کررہا ہے جیسا کہ وزارت آبی وسائل نے بھی تجویز دی تھی اور وہ یکطرفہ فیصلے پر زور دینا چاہتا ہے؟’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں