57

جعلی اکاؤنٹس کیس: مراد علی شاہ پر 30 جون کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 30 جون کی تاریخ مقرر کردی۔

احتساب عدالت میں جج سید اصغر علی نے جعلی اکاؤنٹس اسکینڈل میں نوری آباد پاور پلانٹ ریفرنس پر سماعت کی۔

مراد علی شاہ کی جانب سے عدالتی حاضری سے ایک روزہ استشنیٰ کی درخواست پیش کی گئی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شریک ملزم محمد علی بیرون ملک روپوش ہے۔تحریر جاری ہے‎

عدالت نے محمد علی کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دیا۔

جج اصغر علی نے حکم دیا کہ محمد علی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا جائے اور شناختی کارڈ بلاک کیا جائے۔

عدالت نے وزیر اعلیٰ سندھ سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 30 جون کی تاریخ مقرر کردی۔‎

جج نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر تمام ملزمان عدالت میں پیش ہوں۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں رواں سال 19 جنوری کو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔

نیب راولپنڈی کی جانب سے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر ریفرنس میں مراد علی شاہ سمیت 17 لوگوں کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

ریفرنس میں مراد علی شاہ کے خلاف سندھ میں توانائی منصوبوں میں اختیارات کے غلط استعمال، خلاف ضابطہ فنڈز جاری کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے‎

ریفرنس میں کہا گیا کہ سندھ میں توانائی کے منصوبوں میں خلاف ضابطہ فنڈز جاری کیے گئے، نوری آباد پاور کمپنی، سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈِسپیچ کمپنی منصوبے میں اربوں کی ہیر پھیر کی گئی۔

خیال رہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی اعلیٰ قیادت بشمول سابق صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری، مراد علی شاہ، فریال تالپور، سینئر بینکرز اور بیوروکریٹس ملزمان نامزد ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نیب راولپنڈی میں متعدد بار اس کیس میں تفتیش کے لیے پیش ہوئے تھے۔

مراد علی شاہ کو نیب کے دیگر کیسز کا بھی سامنا ہے جن میں شوگر ملز سبسڈی کیس بھی شامل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جب مخصوص شوگر ملز کو سبسڈیز دی گئی تھیں اس وقت وہ سندھ کے وزیر خزانہ تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں