123

یو اے ای کو اسرائیل سے ہاتھ ملانے کے بعد امریکا سے ایف35 طیارے ملنے کا امکان روشن

یو اے ای کے اسرائیل سے ہونے والے حالیہ امن معاہدے کے نتیجے میں امریکہ نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایف35 جنگی طیاروں کی خریداری کی درخواست پر غور و خوض شروع کر دیا ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ خبر ایک ایسے ذرائع نے دی جو کہ حکومتی عہدیداروں سے ہونے والے مذاکرات میں شریک تھے۔

مڈل ایسٹ میں اسرائیل کے فوجی فوائد کو کم کرنے والی اس فروخت کا امکان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے کہا تھا کہ وہ سفارتی تعلقات معمول پر لائیں گے اور اس معاہدے کے تحت ایک وسیع تر تعلقات استوار کریں گے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔

امریکی صدر نے ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا انکشاف کیا کہ متحدہ عرب امارات لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے تیار کردہ ایف 35 لڑاکا طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے جسے اسرائیل بھی استعمال کر رہا ہے۔

اسی معاملے پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے خطے میں اسرائیلی فوجی برتری کو برقرار رکھنے کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات کو امریکی ایف 35 طیاروں کی فروخت کی مخالفت کریں گے۔

اسی صنعتی ذرائع کے مطابق طیاروں کی ممکنہ فروخت کا انتظام ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر اور داماد جیریڈ کشنر کی مدد سے کیا گیا۔ ایف 35 طیاروں کی فروخت پر بات چیت اور فراہمی میں سالوں لگ سکتے ہیں، حال ہی میں پولینڈ نے 32، ایف 35 طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا ہے اسے 2024 تک پہلی ترسیل ملے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو کسی بھی امریکی اسلحے کی فروخت کے خلاف اپنی مخالفت میں لچک پیدا نہیں کی جو امریکا کی طرف سے ان کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کے حصے کے طور پر فوجی استحکام کو کم کرسکتی ہے۔

واشنگٹن مشرق وسطیٰ کو ہتھیاروں کی فروخت سے انکار کرتا رہا ہے جو اسرائیل کی کی فوجی برتری کو توڑ سکتا ہے۔ اس کا اطلاق ایف 35 پر بھی رہا ہے جس کی عرب ریاستوں کو فروخت سے انکار کیا جاتا رہا جبکہ اسرائیل نے اسے خریدا ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں