60

حکومت نے موسم سرما سے موسمی بجلی ٹیرف نظام متعارف کرنیکی تیاری کرلی

اسلام آباد (الشامی نیوز ) حکومت نے موسم سرما سے موسمی بجلی ٹیرف نظام متعارف کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاور اینڈ پٹرولیم تابش گوہر کا کہنا ہے کہ فلیٹ ٹیرف سے موسم سرما میں 50 ایم ایم سی ایف ڈی یومیہ گیس استعمال میں کمی آئے گی۔ تفصیلات کے مطابق، آئندہ موسم سرما سے حکومت موسمی بجلی ٹیرف نظام متعارف کرنے کی تیاری کررہی ہے، جس کے تحت مقامی صارفین کے لیے فلیٹ ٹیرف کا اطلاق کیا جائے گا تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ بجلی استعمال کرسکیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاور اینڈ پٹرولیم تابش گوہر نے الشامی نیوز کو بتایا ہے کہ حکومت اس طرح نا صرف بڑھتی ہوئی ادائیگیوں کے منفی اثرات کو کم کرسکے گی بلکہ موسم سرما میں گیس کے استعمال میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ نئے نظام کے تحت مقامی صارفین بجلی کے آلات جیسے بجلی کے ہیٹرز اور انورٹرز استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس کے علاوہ کچن میں بھی برقی آلات استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلیٹ ٹیرف متعارف کرنے سے مقامی طور پر وہ 3 لاکھ صارفین جو کہ تھری فیز میٹرز استعمال کرتے ہیں جنہیں ٹی او یو میٹرز کا نام دیا گیا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ موسم سرما کے دو ماہ میں 300 میگاواٹ تک بجلی استعمال ہوگی اور اس سے گیس کے استعمال میں 5 کروڑ کیوبک فٹ یومیہ (ایم ایم سی ایف ڈی) کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موسم سرما میں بجلی کی طلب میں 10 ہزار میگاواٹ تک کمی آجاتی ہے، جب کہ موسم گرما میں بجلی کی طلب 25 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ جب کہ ملک میں 36 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ فلیٹ ٹیرف اسی طرز کا ہوگا جیسا کہ گزشتہ موسم سرما میں لارج اسکیل اور چھوٹے صنعتی صارفین کو پیش کش کی گئی تھی؟ تو تابش گوہر کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ اب تک حل نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں برس حکومت نے آئی پی پیز کو صلاحیتی ادائیگیوں کی مد میں 900 ارب روپے ادا کرنا ہیں، جو کہ 2023 تک بڑھ کر 1500 ارب روپے تک پہنچ جائیں گے۔ اسی لیے حکومت بڑھتی ہوئی ادائیگیوں کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے بجلی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی خواہش مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام بھی نیکا (نیشنل انرجی ایفیشینسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی) سے رابطے میں ہیں تاکہ بجلی کے ہیٹرز، اے سی انورٹرز اور کوکنگ رینج کم قیمتوں میں صارفین کو فراہم کیے جاسکیں اور انہیں اسٹیٹ بینک سے فنانسنگ کی جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی سطح پر گیس میں 3.2 ارب ایکڑ فٹ کی کمی واقع ہوئی ہے، یہاں تک کے موسم گرما میں بھی یہ مقامی صارفین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اس کی وجہ سے درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھ گیا ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ موسم سرما میں صارفین کو مہنگی گیس فراہم کی جاسکے۔ اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ موسم سرما میں درجہ حرارت میں اضافے اور کھانے پکانے کے لیے زیادہ سے زیادہ بجلی کے آلات استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ موسم سرما میں حکومت نے پہلے ہی صنعتوں اور متوسط درجے کی کمپنیوں کو فلیٹ ٹیرف فراہم کیا تھا، جس میں پیک آور ٹیرف میں 25-50 فیصد رعایت دی تھی۔ 25 فیصد رعایت کی پیش کش لارج اسکیل مینوفیکچرنگ صنعت کو اضافی بجلی استعمال پر اور 50 فیصد رعایت ایس ایم ایز کو دی تھی، اس کی وجہ سے ناصرف بجلی کے استعمال میں اضافہ ہوا تھا بلکہ صنعتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لارج اسکیل صنعت کی پیداوار میں 9.29 فیصد جب کہ چھوٹی صنعتوں کی پیداوار میں 8.31 فیصد اضافہ ہوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں