133

اب مجھے اداکاری کے لیے آفرز بھی نہیں آتیں: طلعت حسین

کراچی:(الشامی نیوز )ستارہ امتیاز کے لیے حال ہی میں نامزد ہونے والے نامور فنکار طلعت حسین کہتے ہیں کہ انہیں ایوارڈ لیٹ ملنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ 
’جو لوگ ایسی بات کرتے ہیں، وہ جتنی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اسی حساب سے بات کرتے ہیں۔ میں ایسی باتوں پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ ویسے بھی ہم لوگ ایوارڈ لینے کے لیے تو پرفارم نہیں کرتے۔‘
اپنی اداکاری کے ساتھ ساتھ مخصوص آواز اور لب و لہجے سے اپنی پہچان بنانے والے طلعت حسین نے اردو نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ آج کل جس طرح کے ڈرامے چل رہے ہیں ان کے سکرپٹ ’میری سمجھ سے باہر ہیں۔‘
لیکن طلعت حسین کو اس حوالے سے کوئی شکایت نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ڈراما اپنی چوائس سے نہیں کر رہے۔
‘لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اب مجھے اداکاری کے لیے آفرز بھی نہیں آتیں۔ ایک دو آفرز آئیں تھیں۔ میں نے سکرپٹ منگوا کر پڑھا تو مجھے بالکل سمجھ نہیں آیا اور میں نے منع کر دیا۔ سکرپٹ پڑھو تو اس میں احمقانہ سی گفتگو لکھی ہوتی ہے۔ آج ڈرامے میں سوائے بیوی، بیٹی اور ساس بہو کے جھگڑے کے کچھ اور ہوتا ہی نہیں۔‘ 
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں انھوں نے جو ڈرامے کیے وہ بین الاقوامی طور پر پسند کیے گئے۔
‘میرے ڈراموں پر انڈیا میں شور مچاتھا اور ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہوتے ہیں ڈرامے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں کوئی اکیلا ہی اُس وقت کام کر رہا تھا۔ بہت سے دوسرے آرٹسٹوں کے ڈرامے بھی چل رہے ہوتے تھے لیکن میری خوش قسمتی رہی کہ میرے ڈراموں کو زیادہ پذیرائی ملی۔‘ 
جب ان سے پوچھا گیا کہ جب انہیں آج کل کے لکھے ہوئے سکرپٹ پسند نہیں آتے تو کیا خود کوئی کہانی لکھنے کا ارادہ ہے تو طلعت حسین نے جواب دیا کہ ان کا دل تو چاہتا ہے کہ وہ ڈراما لکھیں۔ انہوں نے ایک آدھ بار کوشش بھی کی اور ایک دو ڈرامے لکھے بھی۔ لیکن ان سے کہا گیا کہ یہ تو بہت ہی مشکل کہانیاں ہیں لوگوں کو سمجھ کیسے آئیں گی لہٰذا بات نہ بن سکی۔ 
‘آج کل میں ایک ناول لکھ رہا ہوں۔ مجھے لکھنے میں وقت لگتا ہے لہذا ناول مکمل ہونے میں ابھی مزید وقت درکار ہے۔ لکھنے لکھانے کا شوق مجھے بچپن سے ہی تھا۔ اداکار بننے سے پہلے میں کہانیاں لکھتا رہا جو کہ چھپتی بھی تھی۔’ 
عہدِ حاضر کے ڈرامے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈرامہ ادب کی ایک قسم ہے۔ جس طرح غزلیں اور نظمیں لکھی جاتی ہیں اسی طرح ڈرامہ بھی لکھا جاتا ہے۔ ‘آپ اسے خوش قسمتی کہیں یا بد قسمتی لیکن ہماری تہذیب شاعروں کی ہے اس میں ڈراما بعد میں داخل ہوا۔ بس آج کے ڈرامے میں مجھے ادب کی کمی نظر آتی ہے۔‘ 
طلعت حسین کے بقول جو لوگ ماضی میں ڈرامے لکھتے تھے ان کا شمار بڑے پائے کے قلمکاروں میں ہوتا تھا۔ وہ پڑھنے لکھنے والے لوگ تھے۔ ’ڈراما لکھنا آسان یا بچوں کا کام تھوڑی ہے۔ اس کے لیے پڑھنا پڑتا ہے تب جا کر آپ کے قلم سے کوئی اچھی چیز نکلتی ہے۔‘
طلعت حسین نے بچوں کے رسالے ‘’بھائی جان‘ سے کام شروع کیا تھا۔ وہ  پینٹر بننا چاہتے تھے لیکن اداکار بن گئے۔ والدہ نے ریڈیو پاکستان والوں سے کہا کہ اسے آڈیشن میں فیل کردو۔ طلعت حسین لیرک سینما کراچی میں گیٹ کیپر بھی رہے۔ 
انہوں نے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے کہا ‘مجھے پینٹر بننے کا شوق تھا۔ میں نے امریکی سفارت خانے کی جانب سے ’آزادی‘ کے موضوع پر ہونے والے پینٹنگ کے مقابلے میں اپنی پینٹنگ بھیجی تو میری پینٹنگ بہت پسند کی گئی اور باقاعدہ پسندیدگی کے لحاظ سے نمبر ون رہی لیکن میرے حصے کا انعام کسی اور کو تھما دیا گیا جس کی وجہ سے میں نے مایوس ہو کر پینٹنگ چھوڑ دی۔’ 
انہوں نے بتایا ‘اس زمانے میں بچوں کا رسالہ ’بھائی جان‘  نکلا کرتا تھا۔ میں نے اس میں لکھنا شروع کیا۔ آٹھویں جماعت میں تھا کہ ریڈیو سٹیشن جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں پروگرام حاصل کی جستجو میں لگ گیا ایک دن ریڈیو پر آڈیشن ہو رہے تھے۔ میں نے بھی ان میں حصہ لیا۔‘
‘میری والدہ ایک براڈ کاسٹر تھیں۔ جب انھیں پتہ چلا تو انہوں نے کہہ دیا کہ اسے فیل کردو۔ لیکن میری آواز، تلفظ اور لہجے سے آڈیشن لینے والے بہت متاثر ہوئے انہوں نے فیل کرنے کے بجائے پاس کر دیا۔ یہیں سے کام کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ میری والدہ چاہتی تھیں کہ طلعت باہر نہ نکلے۔ باہر نکلے گا تو کہیں بری صحبت میں نہ بیٹھ جائے اس لیے ان کی خواہش تھی کہ میں صرف پڑھائی پر توجہ دوں۔‘
طلعت حسین نے کہا کہ ریڈیو پر کام کرتے کرتے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان کی آواز ان کی پہچان بن گئی۔
‘ٹی وی پر مجھے پہلی پیشکش اداکاری کی نہیں اناؤنسر بننے کی ہوئی تھی۔ پیسے کم ملنے کی وجہ سے آفر رد کر دی اور پھر مجھے اسلم اظہر نے (جو اس زمانے میں پاکستان ٹیلی وژن کے ایم ڈی تھے) نے کہا کہ وقت ضائع کرنے کی بجائے اداکاری پر توجہ دو۔ وہاں سے بس اس طرف آنے کا فیصلہ کر لیا۔‘ 
’والد کے انتقال کےبعد گھر کے حالات کچھ کمزور پڑ گئے۔ والدہ کی تنخواہ اچھی تھی لیکن گزارہ مشکل سے ہوتا تھا۔ پہلے انہوں نے نوکری کرنے کا نہیں سوچا تھا لیکن جب دیکھا کہ والدہ اکیلی ہی سارا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں تو بیٹے نے ماں سے کہا کہ انہیں پڑھائی کے ساتھ  ساتھ نوکری کرنے کی اجازت دیں اور یوں انہیں نوکری کی اجازت مل گئی۔ 
 طلعت حسین نے بتایا ‘میرے ایک دوست نے مجھے لیرک سینما کراچی میں بطور گیٹ کیپر نوکری دلوائی۔ وہاں کے منیجر نے بھانپ لیا کہ میں پڑھا لکھا ہوں اور یہ نوکری میرے معیار کی نہیں تو مجھے ایڈوانس بکنگ میں رکھوا دیا۔ اسی دوران ریڈیو پر کام جاری رکھا۔ جب میں نے ’سلمیٰ باجی‘ کے نام سے پروگرام کیا تو وہ سپر ہٹ ہوگیا جس کے بعد میں نے سینما کی ملازمت چھوڑ دی کیونکہ پیسے اور کام زیادہ ملنے لگا تھا اور کمرشلز اور وائس اوور کرنے کی لائن لگ گئی۔’
گو ٹی وی کے لیے’ارجمند‘ طلعت حسین کا پہلا پلے تھا لیکن 1969ء میں بننے والے کھیل ’عید کا جوڑا‘ نے ان کی زندگی اور ان کے کیریئر کی ڈگر ہی بدل دی۔ 
وہ بتاتے ہیں کہ ’انسان اور آدمی‘ ایک ایسا ڈراما تھا جس نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ بعد میں اسی نام سے ایک فلم بھی بنی اور انہیں اس میں ایک اہم کردار بھی دیا گیا۔ 
اس کے بعد طلعت حسین تھیٹر آرٹس پڑھنے کے لیے لندن چلے گئے اور وہاں بی بی سی میں کام بھی کرتے رہے۔ 1977  میں وہ لندن سے وطن واپس آ گئے۔ 
اس سوال کے جواب میں کہ آج تھیٹر کی خرابی کی وجہ کیا ہے طلعت حسین نے کہا ‘ایک وقت تھا کہ ہمارے ملک کا تھیٹر اور ریڈیو بہت اہمیت کا حامل تھا۔ نامور لکھاریوں کے لکھے ہوئے ڈرامے ریڈیو پر چلا کرتے تھے۔ ریڈیو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ جب ٹی وی آیا تو ریڈیو پاکستان سے نامور اور اچھے قابل لوگوں کو ٹٰی وی چلانے کے لیے بلوایا گیا۔ اسی طرح تھیٹر میں بھی بڑے بڑے لوگ کام کرتے تھے لیکن کام کرنے والے لوگ چلے گئے تو ایسے لوگ آئے جو صرف پیسہ کمانا چاہتے تھے۔ بس یہی وجہ ہے ریڈیو اور تھیٹر زوال پذیر ہوگئے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں