134

20 ستمبر1996 کی کالی رات بابا ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے گئے فاطمہ بھٹو

20 ستمبر 1996 کی کالی رات ک
ہمارے گھر(70 کلفٹن) کے باہر ہونے والی شدید فائرنگ 45 منٹس کے بعد رُک چکی تھی۔میرے پاپا(میر مرتضیٰ بھٹو) کی اب تک کوئی خبر نہی تھی۔میں اپنی امی(غنویٰ بھٹو) کیساتھ حالات کا جائزہ لینے کے لیئے باہر آئے اور پولیس والوں سے فائرنگ کی وجہ پوچھی تو انھوں نے جواب دیا کہ کچھ ڈاکوؤں سے ہمارا مقابلہ ہوا ہے،باہر خطرہ ہے اس لیئے آپ اپنے گھر پے رہیں۔پولیس والوں پے یقین کر کے ہم واپس گھر آئے۔
کچھ دیر بعد مجھے پتہ چلا کہ باہر ہونے والی فائرنگ کسی اور پے نہی بلکہ میرے پاپا اور انکے ساتھیوں پے ہوئی ہے۔
فائرنگ بند ہونے کے بعد 40 سے 50 منٹس تک میرے پاپا اور انکے ساتھیوں کو جائے وقوعہ پے ہی تڑپتا چھوڑ دیا گیا،،جسکا مقصد صرف یہی تھا کہ خون زیادہ بہنے کی وجہ سے تمام زخمی جن میں پاپا بھی شامل تھے اپنے آپ مر جائیں۔
اس پولیس کاروائی کا مقصد اور ٹارگیٹ صرف ایک ہی تھا،میرے پاپا کو قتل کرنا۔یہ ایک مُنظم اور طے شدہ منصوبہ تھا،جسکی تیاری پولیس والوں کی جانب سے پچھلے کئی دنوں سے جاری تھی۔
فائرنگ کے بعد پاپاکے کافی ساتھی موقعے پے ہی شھید ہو چکے تھے،لیکن پاپا زخمی اور زندہ تھے۔اگر پاپا کو جلدی سے طبی سھولت ملتی تو وہ بچ سکتے تھے،لیکن پولیس کو پاپا کے قتل کے احکامات ملے ہوئے تھے تو وہ کیوں پاپا کو طبی سھولت دلواتے۔فائرنگ بند ہونے کے سے تقریبن 50 منٹس بعد پاپا کو پولیس کی گاڑی میں رکھا گیا اور اُسی گاڑی کے اندر پاپا کو انتہاتی نزدیک سے چہرے پے گولی ماری گئی اور یہی گولی میرے پاپا کی موت کی وجہ بنی۔اس کے بعد کو (مڈ ایسٹ) ہسپتال منتقل کیا گیا۔یہ ایک ایسا ہسپتال تھا جس میں ایمرجنسی اور آپریشنز وغیرہ کا کوئی خاص انتظام نہی تھا۔
جب مجھے پاپا کے زخمی ہونے کا پتا چلا تو مینے وڈی(آنٹی بینظیر بھٹو کو میں بچپن سے سندھی میں وڈی کہ کر بلاتی تھی) کو جو اسلام آباد میں موجود تھیں،انکو مینے فون کیا۔میرا فون وڈی کے کسی پی-اے نے اُٹھایا تو مینے کہا وڈی سے میری بات کروائیں،تو اس نے کہا وزیرِ اعظم صاحبہ سے آپکی بات نہی ہو سکتی،آپ آصف زرداری سے بات کریں،جس سے میں بات نہی کرنا چاہتی تھی۔زرداری نے فون اُٹھایا تو مینے کہا مجھے آپ سے بات نہی کرنی،وڈی سے میری بات کروائیں۔میرا لہجہ سن کے زرداری نے کہا کہ اس واقعے کا الزام آپ مجھ پے دے رہی ہیں،تو مینے کہا مینے الزام لگانے کے لیئے فون نہی کیا اور نہ ہی آپ سے بات کرنے کے لیئے فون کیا ہے،مجھے ودی سے بات کرنی ہے،،جواب میں زرداری نے کہا کہ آپکی اُنسے بات نہی ہو سکتی اور فون بند کر دیا۔
وڈی سے رابطہ نہ ہونے کے بعد میں امی کیساتھ ہسپتال پہنچی اور اپنے پاپا کو دیکھا،جنکی (navy blue) قمیص شلوار خون سے بھر چکی تھی۔مینے پاپا کے چہرے کو ہاتھ لگایا اور انکے چہرے کو چوما اور پیار کیا اور ڈاکٹرز کے آنے کا انتظار کیا۔ڈاکٹرز ہمارے آنے کے بھی بعد میں پہنچے تھے وہاں۔پاپا کے چہرے سے جب مینے اپنا ہاتھ ہٹایا تو میرا ہاتھ پاپا کے خون سے رنگین ہو گیا تھا۔میری امی(غنویٰ بھٹو) پاپا کے قریب بیٹھ گئیں اور زور زور سے چلاتے ہوئے پاپا سے کہا پلیز ہمیں چھوڑ کے مت جائیں،فاطمہ اور ذلفی کو آپکی بھت ضرورت ہے،،اپنے معصوم بچوں کو مت چھوڑ کے جائیں۔میری نظریں(heart beat minitor) پے تھیں اور جب امی ہمارا نام لے رہیں تھیں تو پاپا کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی،جیسے وہ میرا اور ذلفی کا نام سن کے جواب دینے کی کوشش کر رہے ہوں۔
میرے زخمی پاپا موت سے لڑتے رہے،لیکن میرے پیارے پاپا بچ نہ سکے اور آدھی رات کو ہمیں ہمیشہ کے لیئے چھوڑ کے چلے گئے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں