74

گلگت بلتستان میں ووٹ پر ڈاکا نامنظور کا نعرہ اٹھ رہا ہے، کٹھ پتلیوں سے آزادی لے کر رہیں گے۔ بلاول بھٹو

اسکردو (الشامی نیوز)  گلگت بلتستان میں ووٹ پر ڈاکا نامنظور کا نعرہ اٹھ رہا ہے، کٹھ پتلیوں سے آزادی لے کر رہیں گے۔ 

خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے نہ صرف سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے بلکہ پاکستان تحریک انصاف کو بھی کافی پیچھے چھوڑ دیا۔ جو وفاقی حکومت، اس کی پالیسیز، سیاست کے لیے ایک قسم کا عدم اعتماد کا ریفرنڈم ہے۔ عوام ووٹ کے تحفظ کی جدوجہد تک ہمارے ساتھ رہے۔بلاول بھٹو زداری نے کہا کہ ہمارے کارکن سرد موسم میں بھی احتجاج کر رہے ہیں، انتخابی نتائج کا سامنے نہ آنا متنازع ہے، ایک تصویر میں چیف الیکشن کمشنر گورنر اور گنڈاپور کے ساتھ بیٹھے ہیں، ہم تو پہلے دن سے کہہ رہے ہیں یہ مک مکا ہے، چیف الیکشن کمشنر سے تصویر کی وضاحت چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بیچ دیا گیا، ڈھٹائی سے کہا جا رہا ہے کہ الیکشن شفاف تھے، الیکشن کمیشن جواب دینے کے بجائے پی ٹی آئی کی حکومت بنانے میں لگا ہے، یہ الیکشن کمیشن نہیں پی ٹی آئی کا ونگ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے احتجاج کیا تھا کہ خواتین کو پولنگ میں حصہ لینے نہیں دیا گیا، ایک سازش کے ذریعے خواتین کے ووٹ کو استعمال نہیں ہونے دیا گیا، پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی خواتین کے ووٹ کا تحفظ کرے گی۔  گلگت بلتستان میں ووٹ پر ڈاکا نامنظور کا نعرہ اٹھ رہا ہے، کٹھ پتلیوں سے آزادی لے کر رہیں گے۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے  الیکشن کمیشن کے کمشنر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے گلگت بلتستان کے عوام، اس دھرتی کو بیچ دیا ہے، آپ اپنے عہدے کو سنبھال سکے، نہ اس عہدے کی حیثیت کو سمجھ سکے ہیں اور نہ ہی گلگت بلتستان کے عوام کی امیدوں پر پورا اتر سکے۔  یہ الیکشن کمشنر ان سب کا جواب دینے کے بجائے گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی حکومت بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور میں جی بی کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جو روایت تھی کہ وفاق میں بیٹھے لوگ وہیں رہ کر 15، 15 نشستیں حاصل کرلیتے تھے، آپ نے ان کے لیے یہ کام مشکل بنا دیا ہے۔قبل ازیں بلاول بھٹو نے  ٹوئٹر اکاؤنٹ پرایک گراف  بھی شئیر کیا ہے جس میں جی بی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے ذریعہ حاصل کردہ ووٹوں کی  فیصد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ گراف کے مطابق پیپلز پارٹی نے 25 فی صد، پی ٹی آئی نے 24فی صد ، مسلم لیگ (ن) نے 12، جے یو آئی (ف)  ایک فیصد ، ایم ڈبلیو ایم کو 3فی صد اور آزاد امیدواروں نے 15فی صدووٹ حاصل کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں