103

عوام کو یادداشت پر زور دینا چاہیے، یہ ضیاالحق کا کوئی نام نہیں لیتے، انہوں نے ضیاالحق کی تابعداری کی ان کے جوتے پالش کیے، یہ جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کی پیداوار ہیں، شیخ رشید


اسلام آباد (الشامی نیوز) تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کل مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی مرتضیٰ عباسی، اسپیکر کے پاس جائیں گے اور کہیں کہ میں نے تو استعفیٰ دیا ہی نہیں، یہ میں نے امیر مقام کو دیا تھا انہوں نے دشمنی میں اسپیکر تک پہنچا دیا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ مجھے پوری امید ہے اور خوشی ہے کہ اپوزیشن سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لے گی اور دعویٰ کیا کہ پی ڈی ایم استعفوں پر دوبارہ غور کرے گی۔

شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ کل آصف علی زرداری نے جیلیں بھرنے کی بات کی جبکہ جیل کا زیادہ تر عرصہ انہوں نے ہسپتالوں میں گزارا ہے وہ پاکستان کے وہ سیاستدان ہیں جنہیں معلوم ہے کہ جیل کی سختیوں سے بچنے کے لیے کیا کیا طریقے اپنائے جاتے ہیں، انہوں نے کرمنالوجی میں پی ایچ ڈی کررکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان سب کی لڑائی عمران خان سے زیادہ نیب کے ساتھ ہے، ان کی لڑائی یہ ہے کہ کیس ختم کردیں، یہ چاہتے ہیں کہ اربوں روپوں کے جعلی اکاؤنٹس کو بھول جاؤ، عمران خان کوئی بھی فیصلہ کرسکتا ہے یہ اس کی صوابدید ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ‘وزیراعظم بلاول’ کا نعرہ لگایا، تو اگر آپ نے انڈر 19 کے ساتھ ہی کھیلنا ہے تو اس ملک کے حال پر رحم کریں۔

انہوں نے کہا کہ یہ لانگ مارچ کہہ رہے ہیں لیکن لونگ مارچ اور لانگ مارچ میں فرق ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے ابھی لانگ مارچ کے استقبالیہ کیمپ لگانے کی ہدایت نہیں ملی۔ جے یو آئی (ایف) میں ایک آدھ کو چھوڑ کر سب پر امن لوگ ہیں۔

پی ڈی ایم کے جلسے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ عوام کو یادداشت پر زور دینا چاہیے، یہ ضیاالحق کا کوئی نام نہیں لیتے، انہوں نے ضیاالحق کی تابعداری کی ان کے جوتے پالش کیے، یہ جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کی پیداوار ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ 2 سال سے انہیں چپ لگی ہوئی تھی، ان کا خیال تھا کہ کوئی چیز بیچ سے نکلے گی لیکن جب کچھ نہیں ملا تو انہیں سب یاد آگیا اور بھائی بن گئے، ایک دوسرے کے خلاف انہوں نے قوم کے 20 سال ضائع کیے ہیں۔

قبل ازیں انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی دارالحکومت میں مختلف مقامات پر 3 سروس اسٹیشن قائم کیے جارہے ہیں جہاں پولیس، نادرا، ٹریفک پولیس اور آئی سی ٹی، ‘مے آئی ہیلپ یو’ کے نام ایک ساتھ موجود ہوگی۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ دو فوڈ نائٹ بازار کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ساری رات کھلے رہیں گے اور صبح صفائی کر کے جائیں گے اس میں ہائی اسٹینڈرڈ کافی شاپس بھی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا پٹوار خانہ ایک ماہ میں ختم کردیا جائے گا جس کے بعد اسلام آباد میں کوئی پٹواری نہیں ہوگا اور آئی سی ٹی کی تنظیم نو کی ہدایت کی ہے جبکہ 8 غیر اہم محکموں کو ضم کردیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں