112

ڈھڈوچہ ڈیم کے لیے حاصل شدہ اراضی کے مالکان کا معاوضے میں اضافے کا مطالبہ

اسلام آباد: ڈھڈوچہ ڈیم کی تعمیع مکمل ہونے کی دسمبر 2021 کی آخری تاریخ قریب آتے ہی پانی کے بڑے ذخائر کے لیے استعمال ہونے والی اراضی کے متاثرہ مالکان نے معاوضے میں اضافے کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ سے رجوع کرلیا۔

زمین کے مالکان نے اپنے وکیل بیرسٹر سردار عبدالرزاق کے توسط سے 75 ہزار روپے فی کنال کی قیمت پر اراضی کے حصول کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔

 رپورٹ کے مطابق درخواست گزاروں کے مطابق یہ علاقہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اسکیموں، بحریہ ٹاؤن اور انڈسٹریل ایریا سے ملحق ہے اور یہاں فی کنال اراضی کی لاگت 50 لاکھ روپے فی کنال ہے۔

درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ حکومت نے دھادر اور منگوت میں واقع 220 کنال 75 ہزار روپے فی کنال میں حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تحریر جاری ہے‎

ابتدائی سماعت کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کا جواب طلب کرلیا۔

واضح رہے کہ ڈھڈوچہ وچہ ڈیم کی تعمیر کی باتیں تقریباً ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے چل رہی ہیں۔

2002 میں اسمال ڈیمز آرگنائزیشن کی جانب سے اس جگہ کا ابتدائی فزیبلٹی اسٹڈی کیا گیا تھا، اراضی کے حصول کے ایکٹ 1894 کے سیکشن 4 کے تحت اس زمین کو محفوظ بنانے کے لیے 3 نومبر 2010 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔تحریر جاری ہے‎

یہ علاقہ ضلع راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ، کلر سیداں اور راولپنڈی کا حصہ ہے۔

2006 میں ڈی ایچ اے نے راولپنڈی کے قریب 18 ہزار کنال خریدا جہاں ڈیم تعمیر ہونا تھا اور بحریہ ٹاؤن کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے طور پر ایک رہائشی اسکیم شروع کی تھی۔

ڈی ایچ اے ویلی اسکیم شہید فوجی اہلکاروں کے سوگوار خاندانوں کے لیے تھی جسے ڈیم کے مقام پر تجویز دی گئی۔

4 اگست 2015 کو سپریم کورٹ نے ایک از خود کیس میں پنجاب حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اصل مجوزہ جگہ پر ہی ڈیم تعمیر کرے۔تحریر جاری ہے

ہدایت کے فورا بعد ہی صوبائی حکومت نے علاقے میں زمینوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی تھی اور بعد میں 2017-18 کے اپنے سالانہ ترقیاتی منصوبے میں ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز بھی مختص کردیے تھے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق پنجاب حکومت نے 2017 میں راولپنڈی میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے 7 ارب روپے کی لاگت سے ڈیم کی تعمیر کا عمل شروع کردیا تھا۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد واسا راولپنڈی اور اس سے ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کو 2 کروڑ 50 لاکھ گیلن پانی روزانہ فراہم کر سکے گا۔

ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش 60 فٹ ہے جبکہ ڈیڈ لیول کا تخمینہ 15 فٹ کی سطح پر لگایا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں