114

وفاقی حکومت کے 9 اداروں میں پروویڈنٹ فنڈز کے خصوصی آڈٹ کا فیصلہ، 252 ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے دفتر نے وفاقی حکومت کے 9 اداروں کے زیر انتظام پروویڈنٹ فنڈز کے خصوصی آڈٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

الشامی نیوز رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی درخواست پر اس خصوصی آڈٹ کا حکم دیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ان اداروں کے ملازمین یا وہاں تعینات لوگوں کو پروویڈنٹ فنڈز کی تقسیم کو برقرار رکھا گیا ہے یا سمجھداری سے سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

اے جی پی کی جانب سے جاری ایک حکم میں فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ماہ میں خصوصی آڈٹ مکمل کریں اور اس کی رپورٹ ہیڈآفس میں جمع کروا

مزید یہ کہ متعلقہ حکام کو یہ ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ وہ سرکاری دفاتر کے پروویڈنٹ فنڈز کے خصوصی آڈٹ کے لیے آڈٹ ٹیمز تعینات کریں۔

خصوصی آڈٹ کے لیے جن دفاتر کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر)، وزارت خارجہ کے چیف اکاؤنٹنٹس آفیسر (سی اے او)، پاکستان پبلک ورکز ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی)، پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ، ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (ایم اے جی)، جیولوجکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی)، سینٹرل ڈائریکٹریٹ آف نیشنل سیونگز (سی ڈی این ایس)، پاکستان منٹ اور پاکستان ریلویز شامل ہیں۔

علاوہ ازیں وزارت خزانہ کی جانب سے طے کردہ ٹرمز آف ریفرنسز کے مطابق آڈٹ منیجمنٹ اور ریکارڈ کی جانچ کرے گا جس میں ادارے کے وسائل کی منصوبہ بندی، حساب کتاب اور قواعد و ضوابط اور طریقہ کار کے تحت پروویڈنٹ فنڈ کی ادائیگی کی تقسیم شامل ہے۔

خیال رہے کہ جون 2020 میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مختلف وزارتوں میں عوامی فنڈز میں 12 ارب روپے سے زائد کے غبن اور غلط استعمال کا انکشاف کیا تھا جبکہ سرکاری فنڈز میں 258 ارب روپے کی بے ضابطگیاں پائی گئی تھی

اے جی پی کی مالی سال 19-2018 کی رپورٹ، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے پہلے سال سے متعلق تھی اور اس میں ذمہ داران کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کو حوالہ جات سمیت سخت کارروائی کی تجویز دی گئی تھی۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آڈٹ ٹیموں کو متعدد اداروں اور اکاؤنٹس کا ریکارڈ نہیں دیا گیا تھا۔

آڈٹ رپورٹ میں 12 ارب 56 کروڑ 11 لاکھ روپے کے عوامی فنڈز کے غلط استعمال اور غبن اور فرضی ادائیگیوں کے 56 کیسز کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس کے ساتھ ہی 79 ارب 59 کروڑ روپے کی ریکوری سے متعلق 98 اور 17ارب 97 کروڑ روپے کا ریکارڈ پیش نہ ہونے سے متعلق 37 کیسز ہیں، اسی طرح آڈٹ میں کمزور مالیاتی انتظام سے متعلق 152 ارب 21 کروڑ روپے کے 35 کیسز کا بھی انکشاف کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں