128

وزیر اعظم کی زیر صدارت ترجمانوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ترجمانوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری،وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر موصلات مراد سعید، معاون خصوصی زلفی بخاری، عاصم سلیم باجوہ ، بابر اعوان، فرخ حبیب، انوارالحق کاکٹر، کنول شوزب اور سینیٹر فیصل جاوید شریک ہوئے۔

اجلاس میں ملکی معیشت، کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے اور کورونا کی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں نوازشریف کو واپس لانے کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔

اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی  زلفی بخاری نے تجویز دی کہ کیوں نہ نوازشریف کی واپسی کیلئے سرکاری طور پر رابطہ کیا جائے؟

جس پر وزیراعظم نے  دو ٹوک موقف دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سارے قانونی راستے اختیار کرے گی۔ زلفی بخاری نے نوازشریف کی لندن سے واپسی کیلئے رابطوں کے پلان سے بھی آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں نوازشریف کی لندن سے سیاسی سرگرمیاں، مولانا فضل الرحمان کے سیاسی پلان پر بھی غور کیا گیا۔

فواد چودھری نے نوازشریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کے کیسز پر بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف کے خلاف تحقیقات کے 42 والیم بنتے ہیں جب کہ آصف زرداری کے خلاف تفیتش کے 61 والیم ہیں۔

ذرائع کے مطابق شہباز گل نے نوازشریف کی لیبارٹری رپورٹ میں ممکنہ ہیر پھیر پر بھی اجلاس میں بریفنگ دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ نوازشریف علاج کرانے لندن گئے، اب انہوں نے وہاں بیٹھ کر سیاست شروع کر دی ہے جب کہ مولانا فضل الرحمان رینٹ اے دھرنا ٹو کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ اپوزیشن نے اپنےمفاد کیلئے مولانا فضل الرحمان کو پہلے بھی آگے کیا تھا، نوازشریف لندن سے مولانا کو فون کرکے پھر آگے آنے پر اکسا رہے ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف اے ٹی ایف بل کے بدلے اپوزیشن نیب قوانین میں مرضی کی ترمیم چاہتی ہے،اپوزیشن اپنے کیسز سے بچنے کے لیے حکومت کو ناکام کرنا چاہتی ہے۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے ترجمانوں کے اجلاس میں قومی مفاد پر زیروٹالرنس کا اعلان کیا۔

ترجمان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو کوئی این آر او نہیں دیں گے، ہم ملکی دولت لوٹنے والوں کو کیسے فری ہینڈ دیدیں۔

عمران خان نے کہا کہ اگر این آر او دینا ہے تو ہمیں حکومت میں رہنا چاہیے نہ سیاست میں،اگراین آر او دے دوں تو اپوزیشن تین سال اونچی آواز بھی نہ نکالے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کے ساتھ کوئی بھی ڈائیلاگ نہیں ہو گا، اپوزیشن کو این آر او دینے سے ہمارا فلسفہ زیرو ہوجاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کا سفر تیز کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں