47

بجٹ میں 110 ارب روپے کا زرعی پیکج شامل کرنے کا امکان

انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ منظوری ملنے کے بعد صحیح رقم کا اعلان کیا جائے گا—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: عام انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں 110 ارب روپے کے زرعی اصلاحات پر مبنی پیکج متعارف کیے جانے امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ 3 سال کے اندرفصلوں کی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافے کے لیے قرضے میں 80 فیصد یعنی 27 کھرب روپے تک کا اضافہ کیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ وزیر اعظم ٹاسک فورس برائے زراعت جمشید اقبال چیمہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 10 ارب روپے کا پیکج 3 برس کے لیے ہوگا اور مرکز اور صوبوں کے ذریعہ 50:50 کے حساب سے مالی اعانت فراہم کی جائے گی۔تحریر جاری ہے‎

جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ صرف وفاقی حکومت آنے والے بجٹ میں پہلے سال کے لیے تقریباً 25-30 ارب روپے مختص کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ منظوری ملنے کے بعد صحیح رقم کا اعلان کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ منصوبہ وزیر اعظم کے سامنے پیش کیا ہے۔

جمشید چیمہ نے کہا کہ اس پیکج میں چار اہم عناصر ہوں گے جن میں لائیو اسٹاک کی بہتر افزائش کے لیے 3 برس م ارب روپے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔‎

انہوں نے بتایا کہ دوسرا عنصر نائٹروجن اور فاسفورک کھادوں کی 4 کروڑ بیگ پر ہزار روپے فی بیگ امداد فراہم کی جائے گی اور اس پیکج کا ججم 40 ارب روپےرکھا گیا ہے اور اس میں تین بڑی فصلوں یعنی گندم ، چاول اور مکئی کا احاطہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ تیسرا پہلو یہ ہے کہ 30 ارب پر مشتمل تین سالہ پیکج ہے جو مونگ، آلو اور پھلیاں سمیت دیگر اجناس کی 3 ماہ کی پختگی کی مدت کے ساتھ فصلوں کی تعداد کو موجودہ ڈیڑھ سال سے ڈھائی سال تک بڑھائی جائے گی۔

اس کے علاوہ اگلے 2 برس میں زراعت کا کریڈٹ رواں سال کے 15 کھرب سے بڑھا کر 27 کھرب ارب روپے کردیا جائے گا جوکہ دو سال پہلے تقریباً 900 ارب روپے تھا۔‎

جمشید چیمہ نے کہا کہ عالمی بینک کے تخمینے سے معلوم ہوتا ہے کہ زراعت میں سرمایہ کاری نے غربت میں کمی کو کسی بھی دوسرے شعبے سے 4 گنا زیادہ متاثر کیا ہے۔

علاوہ ازیں فواد چوہدری نے کہا کہ رواں سال کے دوران زراعت کے شعبے کے ذریعہ دیہی معیشت میں تقریباً 11 کھرب روپے اضافی آمدنی ہوئی جس کو بہت سارے افراد مہنگائی کے عوامل قرار دے رہے ہیں۔

جمشید چیمہ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ زراعت کے پرانے طریقوں پر انحصار کیا اس وجہ سے کمرشل بنیادوں پر زراعت میں حصہ نہیں لے سکا اور چند فصلوں پر توجہ دی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں ملک نہ صرف کھانے میں بلکہ کیلوری کی مقدار میں بھی کمی کا شکار ہے جس کے نتیجے میں انسانی دماغ بھی متاثر ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں