138

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل بینکنگ، مگر شرائط پوری کرنا مشکل

اسلام آباد:(الشامی نیوز ) پاکستان کی حکومت کی جانب سے سمندر پار پاکستانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے بیرون ملک سے ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولت تو فراہم کی گئی ہے، تاہم بیرون ملک پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل بینکنگ کے لیے جو شرائط رکھی گئی ہیں اُنہیں پورا کرنے میں ان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈیجیٹل بینکنگ کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی وطن واپس آئے بغیر مکمل آپریشنل بینک اکاؤنٹ کھلوا سکیں گے۔ بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے بنیادی معلومات اور دستاویز آن لائن فراہم کرنا ہوں گی۔ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستانی بینکنگ کا جدید ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم فراہم کیا جائے گا۔ فنڈز ٹرانسفر، بل پیمنٹ اور ای کامرس سمیت تمام بنیادی بینکنگ سروسز بھی دستیاب ہوں گی۔
منصوبے کے تحت اوورسیز پاکستانی سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنے کے اہل ہوں گے۔ بینکوں کی جانب سے فکس ڈیپازٹ پراڈکٹس کی آفرز سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔ رہائشی یا کمرشل پراپرٹی کی خریداری کے لیے براہ راست ٹرانزیکشن کی سہولت مل سکے گی۔ اوورسیز پاکستانی اپنی مرضی سے مقامی یا فارن کرنسی میں اکاؤنٹ کھلوا سکیں گے اور وہ جس وقت چاہیں اپنا سرمایہ بغیر پیشگی اجازت نکال سکتے ہیں۔
سمندر پار پاکستانیوں نے حکومت کے اس اقدام کو سراہا ہے لیکن اس سلسلے میں رکھی گئی شرائط کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔
الشامی نیوز سے گفتگو میں مختلف ممالک میں رہنے والے پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے پاکستان میں بینک اکاؤنٹ کھولنا تقریبا ناممکن ہے۔ وہ شرائط رکھی ہیں جن کو پورا کرنے میں ایک سال لگ جائے گا۔
 بینک کھولنے کے لیے کام کا کنٹریکٹ، تین مہینے کی سیلری سلپ، پانچ ہزار روپے کا چیک اس شخص سے جس کا اس برانچ میں اکاؤنٹ ہو اور پاکستان میں تمام اثاثوں کے ثبوت کے دو لاکھ روپے کے ابتدائی ڈیپازٹ جیسی شرائط چند لوگ تو پوری کر سکتے ہیں مگر یہ عام شہری کے بس کی بات نہیں ہے۔
سعودی عرب میں مقیم افضال احمد نے الشامی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ‘خلیجی ممالک میں بہت سی کمپنیاں ملازمت کا کنٹریکٹ نہیں دیتیں اس کے علاوہ لیبر طبقے کو سیلری سلپ بھی نہیں ملتی۔ اس لیے یہ دونوں شرطیں ختم کر کے پاسپورٹ پر ورک ویزہ ہونے کی شرط عائد کی جائے تو آسانی ہو جائے گی۔ یا پھر بیرون ملک بینک کی وہ سٹیٹمنٹ تسلیم کر لی جائے جو بینک ہمارے موبائل پر بھیجتے ہیں۔’
متحدہ عرب امارات میں رہنے والے یاسر کلیم کا کہنا تھا کہ ‘تمام دستاویزات ایمبیسی سے تصدیق شدہ ہونے کا کہا گیا ہے جبکہ ان میں بہت سی دستاویزات تو نادرا سے جاری ہوتی ہیں جن کی آن لائن تصدیق ہو سکتی ہے۔ جب ایک فرد بیرون ملک رہ رہا ہے تو اس کی آمدن کا یہی ثبوت کافی ہے اس لیے آمدن کا ثبوت فراہم کرنے کی شرط ختم کی جائے۔’
ڈیجیٹل بینکنگ میں اکاؤنٹ کھولنے، بیرون ملک سے بیٹھ  کر اکاؤنٹ آپریٹ کرنے اور سرمایہ کاری کی اجازت تو ہے تاہم بیرون ملک مقیم پاکستانی بینک سے قرضہ وغیرہ لینے کی سہولت سے محروم ہیں۔
 اس حوالے سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری ریحان احمد نے کہا کہ اگر سہولت فراہم کرنی ہی ہے تو ایسے ہی کی جائے جیسے پاکستان میں شہریوں کو حاصل ہے کہ ہم بھی بینک سے گھر اور گاڑی کے لیے قرضہ لے سکیں اور کریڈٹ کارڈ کی سہولت بھی فراہم کیا جائے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اتنے امیر نہیں ہیں کم از کم مزدور طبقے کو یہ سہولیات دینی چاہئیں۔’
متعدد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے وہ بینک اکاؤنٹس جو انھوں نے پاکستان میں کھولے لیکن بیرون ملک ہونے کی وجہ سے وہ بلاک ہو چکے ہیں اور ان میں رقوم بھی موجود ہیں، تاہم بینکوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ وہ صرف ایک ہی صورت میں فعال ہوسکتے ہیں کہ ہم پاکستان جا کر متعلقہ بینک کی برانچ وزٹ کریں اور متعلقہ دستاویزات بھی فراہم کی جائیں۔
انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولت کے تحت انھیں اپنے یہ اکاؤنٹ بحال کرانے کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔
بیرون ملک پاکستانیوں نے موجودہ بینکنگ نظام کے حوالے سےبھی کافی شکایات کی ہیں جن میں خاص طور پر بینکوں کی جانب سے بھیجے گئے زرمبادلہ اہل خانہ کو دینے میں تاخیری حربے، بینکوں کے عملے کی جانب سے غیر شائستہ رویے اور اے ٹی ایم کارڈ وغیرہ کی اہل خانہ کو عدم فراہمی شامل ہیں۔
سعودی عرب میں رہنے والے نذیر احمد نے الشامی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ‘ہم کوشش کرتے ہیں کہ سرکاری بینک میں پیسے بھیجیں لیکن پاکستان میں جو بینک سٹاف ہے ان کے نخرے ہی ختم نہیں ہوتے دو چار چکر ضرور لگواتے ہیں چاہے بینک گھر سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو اکثر تو بات ہی نہیں سنتے. باقی بینکوں کی حالت بھی مختلف نہیں ہے۔’
کویت میں مقیم محمد نوید نے کہا کہ ‘جب ہم گھر اپنوں کو پیسے بیجتے ہیں اور ہمارے گھر والے بینک جائیں تو بینک والے کہتے ہیں آج پیسے نہیں آئے کل آنا اور اس طرح کے بعض اوقات کئی دن لگا دیے جاتے ہیں جبکہ پیسے  یہاں سے بیجنے کے پندرہ منٹ بعد پاکستان ملنے چاہئیں۔ بینک والوں کا رویہ اچھا بھی نہیں ہوتا۔ یہی پیسے اگر ہنڈی سے بھیجتے تھے تو فوری طور پر مل جاتے تھے۔’
متحدہ عرب امارات میں مزدوری کرنے والے پاکستان اختر علی نے کہا کہ ’اگر غلطی سے کچھ رقم بچا کر بینک میں رکھ دیں تو اس کو نکلوانے پر ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے، جیسے ہمیں بچت کرنے کی سزا دی گئی ہو۔ اب ہم پیسے تکیوں میں جمع کرنے سے تو رہے۔ یہ جگا ٹیکس ختم ہونا چاہیے کہ اپنی رقم نکلوانے پر بھی جرمانا دینا پڑتا ہے۔‘
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولت کے ساتھ ساتھ ایک سال میں مخصوص رقم بھیجنے والوں کا ایئرپورٹ ٹیکس معاف اور ایک گاڑی اور ایک موبائل لے جانے کی اجازت دینی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں