65

کورونا کے بڑھتے کیسز ، یورپ کے کئی ممالک میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ

کورونا کے بڑھتے کیسز ، یورپ کے کئی ممالک میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ

پیرس : یورپ میں کورونا کی دوسری لہر شدت اختیار کرگئی ، فرانس ، جرمنی ، بیلجئیم نے عالمی وبا پر قابو پانے کیلئے ایک بار پھر قومی لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق یورپ میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ، وبا پر قابو پانے کے لیے بیلجئم نے بھی  قومی سطح پر دوبارہ  لاک ڈاؤن  کا اعلان کیا ہے  ۔بیلجیم کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دسمبر کے وسط تک تمام غیر ضروری دکانیں اور کاروبار بند رہیں گے۔ عوامی مقامات پر بڑے اجتماعات زیادہ سے زیادہ چار افراد تک محدود رہیں گے ،اسکولوں کی تعطیلات میں بھی 15 نومبر تک توسیع کردی گئی ہے۔ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں  اضافے کے بعد فرانس  کے صدر نے بھی لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے  جس کا اطلاق کم از کم نومبر کے آخر تک رہے گا ۔ لاک ڈاؤن میں لوگوں کو صرف ضروری کاموں اور طبی وجوہات کی بنا پر گھر سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔ریستوران بند رہیں گے تاہم سکولوں اور فیکٹریوں کو کھولے رہنے کی اجازت ہوگی ۔ اس لاک ڈاؤن کا مقصد ملک میں تیزی سے پھیلتی وبا پر قابو پانا ہے۔جرمنی نے بھی آج سے   کورونا سے بچاؤ کیلئے نئے اقدامات متعارف کرائے ہیں، جن میں لوگوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائدکی گئی ہیں۔ اسپین میں  کورونا پابندیوں کیخلاف پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں اور لوگوں نے سڑکوں پر کورونا وائرس کی پابندیوں کے خلاف  بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا ۔ بارسلونا میں کرفیو اور ہفتے کے آخر میں شہر چھوڑنے پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔کوویڈ کی دوسری لہر کو روکنے کے لئے کیے گئے نئے اقدامات پر اٹلی میں بھی پرتشدد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ سینکڑوں افراد نے کورونا وائرس کی پابندیوں کے خلاف ملک کے متعدد بڑے شہروں روم ، پیلرمو ٹورین ، نیپلس اور میلان میں مظاہرے کیے۔ متعدد یوروپی ممالک  کو   کورونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے جس میں ورونا کیسز  میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔واضح رہے کہ عالمی وبا کے باعث دنیا بھر میں 4 کروڑ 59 لاکھ 21ہزار سے زائد افراد متاثرہوئے ہیں جبکہ 11 لاکھ 93ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں