70

کورونا ویکسین کس ملک کو دی جائے؟ یہ امیر ممالک کا فیصلہ ہوگا، رپورٹ

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ 2022 تک کوویڈ 19 کی ویکسین سے محروم رہے گا جبکہ دولت مند ممالک کے پاس اتنی استطاعت موجود ہے کہ وہ کوروناوائرس ویکیسن اگلے سال کے نصف دورانیے تک ذخیرہ کرسکتے ہیں۔

جان ہاپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے محققین نے پایا کہ دولت مند ممالک عالمی آبادی کا صرف 14 فیصد حصہ ہیں لیکن انہوں نے اگلے سال کیلئے 13 معروف ڈویلپرز کی طرف سے تیار کی جانے والی ویکسین کی نصف مقدار کا پہلے ہی سے آرڈر دے دیا ہے۔ ایسے خدشات لاحق ہیں کہ غریب ممالک شاید 2022 تک کورونا ویکسین سے محروم رہیں۔

بی ایم جے میڈیکل جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی کم از کم پانچویں حصے کی آبادی کو 2022 تک ویکسین تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔

عوامی سطح پر دستیاب اعداد و شمار کو دیکھا گیا اور بتایا گیا کہ نومبر کے وسط تک ویکسین کی مجموعی طور پر 7.48 بلین خوراکوں کی ڈیمانڈ تھی جو 3.76 بلین حفاظتی ٹیکوں کے کورس کے برابر ہے کیونکہ زیادہ تر ویکسین دو مرتبہ لگائی جاتی ہیں۔ یہ 2021 کے آخر تک ویکسین کے 5.96 بلین کی مینوفیکچرنگ پروجیکٹ کی صلاحیت سے متجاوز ہے۔

رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ معروف مینوفیکچررز کی طرف سے تیار کی جانے والی ویکسین کا 40 فیصد حصہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کو ملے گا لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مالدار ممالک خریدی گئی ویکسین میں سے ان ممالک کو کتنا فراہم کرتے ہیں۔

ماہرین جنہوں نے متنبہ کیا کہ عوام کو کوروناویکسین کے حوالے سے دی جانے والی معلومات نامکمل ہیں، انہوں نے ویکسین کی تمام ممالک کیلئے مساوی دستیابی اور اُن کی اعانت کیلئے زیادہ سے زیادی شفاف احتساب کرنے کا مطالبہ کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں