49

وبا سے افریقی ممالک میں مشکلات، سعودی عرب کا اربوں ریال مدد کا اعلان

ویب ڈیسک 19 مئی 2021

ریاض: ( الشامی نیوز آن لائن نیوز)سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے براعظم افریقہ کے ممالک کی مدد کے لیے منعقدہ پیرس سربراہی کانفرنس سے آن لائن خطاب کیا اور کہا کہ سعودی عرب افریقی ممالک میں 3 ارب ریال سے زائد مالیت کے پروگرام شروع کرے گا۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی ترقیاتی فنڈ افریقہ کے ساحلی ممالک کے ترقیاتی منصوبوں میں ایک ارب ریال کے لگ بھگ سرمایہ لگائے گا اور یہ کام فرانس کی ترقیاتی ایجنسی کے تعاون سے کیا جائے گا۔

ولی عہد کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ترقیاتی فنڈ افریقہ کے ترقی پذیر ممالک میں 3 ارب ریال سے زائد مالیت کے پروگرام مستقبل میں نافذ کرے گا، یہ رقمیں قرضوں، عطیات اور منصوبہ جات کی شکل میں خرچ کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے 50 ارب سے زائد درختوں کی شجر کاری کے لیے گرین مشرق وسطیٰ پروجیکٹ کا اعلان کیا ہے، اس سے افریقی ممالک بھی فائدہ اٹھائیں گے۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے افریقی ممالک کی مدد سے متعلق عالمی کانفرنس منعقد کرنے پر فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سربراہ کانفرنس براعظم افریقہ، اس کے ممالک اور اقوام کے مستقبل سے دلچسپی کا بھرپور اظہار ہے۔ خصوصا کرونا وبا کے زمانے میں براعظم افریقہ کے لیے یہ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وبا سرحدیں نہیں جانتی، اس نے دنیا کے مختلف علاقوں میں انسانوں کی روزمرہ کی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ۔خصوصا صحت اور معیشت پر بہت برا اثر ڈالا ہے۔

ولی عہد کا کہنا تھا کہ کرونا وبا سے کم آمدنی والے افریقی ممالک بہت زیادہ متاثر ہوئے، اس وبا نے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے درکار فنڈنگ کی خلیج بڑھا دی۔ سعودی عرب نے براعظم افریقہ میں ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردارادا کیا ہے جبکہ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ افریقی ممالک کے لیے متعدد منصوبے اور اسکیمیں تیار کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب افریقی ممالک میں انتہا پسندانہ اور دہشتگردانہ تنظیموں کے خلاف کارروائی میں بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کررہا ہے اور کرتا رہے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا اور افریقی ممالک کے سیکیورٹی اداروں کی استعداد بہتر بنانے کی کوششوں میں حصہ لیتا رہے گا۔

ولی عہد کا کہنا تھا کہ اس وقت کا اہم مسئلہ یہ ہے کہ کم آمدنی والے افریقی ممالک میں ویکسین کی منصفانہ تقسیم ہو اور یہ کام تیزی سے انجام پائے، دیگر ممالک کو بھی یہ سہولت حاصل ہو۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے سنہ 2020 کے دوران جی 20 کی قیادت کرتے ہوئے افریقہ سمیت دنیا کے تمام کم آمدنی والے ممالک کی مدد کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ سعودی عرب کی جانب سے کم آمدنی والے ممالک کو ہنگامی امداد فراہم کی گئی۔ جی 20 نے 73 ممالک کو فوری نقد مدد مہیا کی، ان میں سے 38 کا تعلق افریقہ سے تھا۔ جی 20 نے 5 ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں