86

سعودی عرب : مزدور سے اب غیر قانونی طریقے سے کام نہیں لیا جاسکے گا

ریاض : (الشامی نیوز) سعودی ماہر قانون عبید العیافی نے آجروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی کارکن سے غیر قانونی ڈیوٹی لینے کا خطرہ مول نہ لیں ایسا کرنے پر15 ہزار ریال تک کا جرمانہ عائد ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون عبید العیافی نے کہا کہ بیشتر آجر  اس بات سے ناواقف ہیں کہ کسی بھی ملکی یا غیر ملکی کارکن سے غیر قانونی ڈیوٹی لینے کی سزا کیا ہے۔

العیافی نے مزید کہا کہ سعودی قانون محنت نے تمام آجروں اور ان کے نمائندگی کرنے والے عہدیداروں پر یہ پابندی عائد کررکھی ہے کہ وہ کسی بھی کارکن سے بے جا ڈیوٹی نہ لیں، ہر کارکن کے ساتھ احترام کا معاملہ کریں۔ ایسی کوئی بات یا ایسی کوئی حرکت نہ کریں جس سے کارکن کا وقار متاثر ہوتا ہو یا اس کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔

العیافی نے توجہ دلائی کہ کسی بھی کارکن سے زبردستی کوئی بھی کام یا خدمت لینا غیر قانونی عمل ہے، کسی بھی کارکن سے ایسا کوئی کام نہیں لیا جاسکتا جو ملازمت کے معاہدے میں مذکور نہ ہو۔

ملازمت کے معاہدے سے خارج کسی بھی کام کے لیے کارکن کو دھمکا کر اس سے کام کرانا قابل سزا عمل ہے، اس سے ہنگامی حالات مستثنی ہیں، مثلاً سیلاب، حالات جنگ، آتشزدگی، قحط، زلزلے، زبردست وبائی امراض، جانوروں یا حشرات الارض وغیرہ کی یلغار استثنائی حالات میں آتے ہیں۔

العیافی نے کہا کہ آجر یا اس کی نمائندگی کرنے والے عہدیدار یا مینجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارکن کے ساتھ شایان شان معاملہ کرے۔

آجر یا اس کے خاندان کے کسی فرد یا مینیجر کو اس بات کا کوئی حق نہیں کہ وہ کارکن کے ساتھ تشدد آمیز معاملہ کرے یا خلاف تہذیب انداز سے پیش آئے، کارکن کے اہل خانہ کے ساتھ بھی اس قسم کا رویہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔

آجر کو اس بات کا کوئی حق نہیں کہ وہ کارکن کی توہین کرے یااس پر ظلم کرے یا اس سے سختی سے پیش آئے۔

قانون محنت کی دفعہ 81 میں ہے کہ اگر آجر نے معاہدہ ملازمت میں مذکور ذمہ داریوں کی آجر کی جانب سے خلاف ورزی پر بغیر اطلاع دیے ڈیوٹی ترک کردی تو اسے اس کے تمام قانونی حقوق ملیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں