104

سال میں پانچویں مرتبہ چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر

رواں برس چاند کا کعبہ شریف کے عین اوپر آنے کا یہ پانچواں اور آخری موقع ہے— فائل فوٹو: رائٹرز
رواں برس چاند کا کعبہ شریف کے عین اوپر آنے کا یہ پانچواں اور آخری موقع ہے— فائل فوٹو: رائٹرز

سعودی عرب کی فلکیاتی سوسائٹی کے مطابق آج (8 نومبر کو) چاند خانہ کعبہ کے عین اوپر دکھائی دیا جسے دیکھ کر دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد قبلے کی درست سمت کا تعین کیا

تفصیلات کے مطابق سعودی فلکیاتی سوسائٹی کے نگران انجینئر ماجد ابوزہرہ نے کہا تھا کہ 8 نومبر کی صبح سورج طلوع ہونے سے قبل چاند کعبہ شریف کے عین اوپر دکھائی دیا

انہوں نے کہا تھا کہ مقامی وقت کے مطابق طلوع آفتاب سے قبل 6 بجکر 7 منٹ اور5 سیکنڈ پر چاند عین کعبہ شریف کے اوپرعمودی شکل میں تھا

ماہر فلکیات ابوزہرہ نے یہ بھی کہا تھا رواں برس چاند کا کعبہ شریف کے عین اوپر آنے کا یہ پانچواں اور آخری موقع تھا

انہوں نے مزید کہا ا کہ جس وقت چاند کعبہ شریف کے عین اوپر عمودی شکل میں دکھائی دیا اس کی اونچائی 89.58.19 ڈگری ہوگی جبکہ چاند سورج سے 54.8 فیصد روشنی منعکس کرے گا جس کا زاویہ 95 ڈگری پر تھا

سعودی فلکیاتی سوسائٹی کے نگران نے اس دوران چاند کی سورج سے دوری 383621 کلومیٹر تھی

خیال رہے کہ سال 2020 میں پہلی مرتبہ 6 مارچ کو چاند کعبہ کے عین اوپر آیا تھا، اس کے بعد 30 اپریل کو چاند خانہ کعبہ کے اوپر نظر آیا تھا۔​اس سے قبل خانہ کعبہ کے عین اوپر چاند دکھائی دینے کا منظر 2018 میں بھی دیکھا گیا تھا اور اسی سال 12 رمضان کو سورج بھی کعبہ شریف کے اوپر دکھائی دیا تھا۔

بعدازاں 14 ستمبر کو چاند کے خانہ کعبہ کے اوپر آنے کا منظر دیکھا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق زمانہ قدیم میں اس فلکیاتی عمل سے لوگ خانہ کعبہ کی سمت کا تعین کرتے ہوئے قبلہ درست کیا کرتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں