121

لبنان اسلحے کے شامی سمگلرز کے لیے ’کھلا دروازہ‘

شام (الشامی نیوز /آن لائن نیوز )شام کی سرحد پر ایمونیشن کے ہزاروں راؤنڈ پکڑے جانے کے بعد لبنان میں ذاتی ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی تجارت بے نقاب ہوئی ہیں۔
لبنان کی سرحدی پٹرول کے اہلکاروں نے یانتا نامی علاقے کے نواح میں سمگلنگ کے ایک معروف راستے پر دو افراد کو اس وقت روکا جب وہ ایمونیشن کے ہزاروں راؤنڈ سمگل کر رہے تھے۔
عرب نیوز کے مطابق جمعے کی رات ان میں سے ایک شخص نے اہلکاروں پر دھماکہ خیز مواد پھینکا جس کی وجہ سے چار سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
آرمی کمانڈ کے مطابق سرحدی پٹرول نے ان میں سے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے اور ان سے گولہ بارود سے بھرے چار ڈبے پکڑے ہیں۔
آرمی کمانڈ نےمزید کہا کہ دوسرے شخص کی تلاش جاری ہے۔
لبنانی آرمی کے ذرائع نے عرب نیوز کو بتایا کہ لبنان اور شام کی سرحد پر ہتھیاروں کی سمگلنگ سے متعلق گرفتار شخص سے پوچھ گچھ کی جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق ’ملٹری پٹرول سامان اور سمگلنگ کی اشیا کی تلاشی لیتی ہے لیکن پہلی بار شام سے لبنان تک ایمیونیشن کی سمگلنگ کا پتہ چلا ہے۔‘
حالیہ دنوں لبنان میں کئی واقعات میں ہتھیاروں کا استعمال ہوا ہے۔
بیروت کی بندرگاہ پر دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے جنازوں کے دوران بھی فائرنگ ہوئی ہے اور خلدہ کے علاقے میں حزب اللہ کے حامیوں اور حکام کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
شام سے متصل بقاع کے علاقے میں اسلحے کے ایک ڈیلر نے عرب نیوز کو بتایا کہ اسلحے کی تجارت کیسے ہوتی ہے۔
’ لبنان کے سرحدی علاقوں تک عموماً شامی باشندے اسلحہ پہنچاتے ہیں اور ان کو ڈالرز، شامی کرنسی اور لبنانی پاؤنڈز میں قیمت ادا کی جاتی ہے۔ قیمتوں کا تعین بلیک مارکیٹ میں ڈالر کے مقرر کردہ قیمت کے مطابق ہوتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیلرز اپنے گھروں میں اسلحہ رکھتے ہیں اور گاہک ان سے اپنی پسند کے مطابق اسلحہ منتخب کرتے ہیں اور خریدتے ہیں۔
’وہ لوگ جن کے گھروں میں ایک ملین ڈالرز سے زیادہ رقم موجود ہوتی ہے ان کو چوروں سے اپنی اور رقم کی حفاظت کے لیے ہتھیار کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
اسلحے کے ڈیلر نے بتایا کہ سرحد پر قبضے میں لیے گئے ایمیونیشن کے ہر ڈبے کی قیمت تقریباً 930 ڈالر ہوگی۔
’ایمیونیشن کی قیمت میں دو دن پہلے اضافہ ہوا ہے، ڈیلرز کی نظر سکیورٹی کی صورتحال پر ہوتی ہے اور اسی کے مطابق وہ قیمت طے کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’سب سے زیادہ ڈیمانڈ روسی ساختہ ہتھیار کلاشنکوف اور امریکی کمپنی نوسلر کی بنائی ہوئی نووسیکی گولیوں کی ہے۔ کلاشنکوف کی قیمت پانچ سو امریکی ڈالر ہے۔‘
ڈیلر کے مطابق ایرانی ہتھیاروں کی طلب اتنی نہیں۔
’سب سے زیادہ ڈیمانڈ امریکی ساختہ ایم 16 اور ایم 4 ہتھیاروں کی ہے۔ جس کی قیمت 15 سو ڈالر ہے جبکہ امریکہ سے آئے اصل ہتھیار کی قیمت سات ہزار ڈالرز ہے۔ عام طور پر منشیات کے ڈیلرز ان ہتھیاروں کو خریدتے ہیں، اس سے کم وقت میں زیادہ گولیاں فائر کی جاسکتی ہیں۔‘
لبنانی ڈیلر کے مطابق دیگر چیزوں کی سمگلنگ کی طرح اسلحے کی سمگلنگ بھی کی جاتی ہے۔ ’اسلحہ بنانے والی کمپنیوں کے ایجنٹس ہوتے ہیں اور ان کو اسرائیل یا کسی دوسری جگہ کے ایجنٹس سے ہتھیار لانے میں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ سکیورٹی کے لحاظ سے شام بدنظمی کا شکار ملک ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں